اسرائیل ایک 'خونی اور مشکل جنگ' لڑ رہا ہے: جنگ کے چھ ماہ بعد اسرائیلی صدرکا بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی صدر اسحاق ہرتصوغ نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کا ملک ایک "خونی اور مشکل جنگ" لڑ رہا ہے۔ ان کا یہ بیان تنازعے کے چھ مہینے مکمل ہونے کے موقع پر سامنے آیا ہے۔

جنگ کا محرک بننے والے حماس کے سات اکتوبر حملے کا حوالہ دیتے ہوئے ہرتصوغ نے کہا، "کل صبح 6:29 بجے (0329 گرنیچ کے معیاری وقت) کو ہم ظالمانہ دہشت گرد حملے اور ہولناک قتلِ عام کے چھ ماہ مکمل کر رہے ہیں۔"

اسرائیلی صدر کا امور مملکت میں کردار نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے، تاہم انہوں نے اس موقع پر ایک بیان میں اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ "ہماری بہنوں اور بھائیوں، ریاست اور انسانیت کے خلاف اس جرم کو نصف سال مکمل ہو گیا ہے۔ ایک خونیں اور مشکل جنگ کے چھ ماہ۔"

یاد رہے کہ فوج کی طرف سے غزہ میں یرغمال اسرائیلی شہری ایلاد کتزیر کی لاش برآمدگی کے اعلان کے بعد ہرتصوغ کا بیان سامنے آیا ہے۔ ایلاد کتزیر نامی اسرائیلی یرغمالی کے بارے میں فوج نے بتایا کہ اسے جنوری میں غزہ میں قید کے دوران قتل کر دیا گیا تھا۔

اسرائیلی صدر کا بیان جس وقت سامنے آیا ہے وہیں دوسری جانب دسیوں ہزار اسرائیلیوں نے دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے انتہا پسند وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے غزہ جنگ سے نمٹنے کے طریقے کے خلاف احتجاج کیا۔

اسرائیلی فوج کے بہ قول غزہ میں موجود 129 یرغمالیوں میں سے 34 ہلاک ہو چکے ہیں۔

غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق حماس کے خلاف اسرائیل کی جوابی کارروائی میں غزہ میں کم از کم 33,137 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں