غزہ ناکہ بندیاں اور خوف، مسیحی اپنی میتیں مسلمانوں کے قبرستان میں دفنانے پر مجبور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ میں اسرائیلی جنگ کے خوفناک ساتویں ماہ نے خوف کی ایسی فضا پیدا کر دی ہے کہ عیسائیوں کے لئے سڑکوں پر تعینات اسرائیلی فوج اور ناکوں کے ماحول میں اپنے فوت شدہ پیاروں کو مسیحی قبرستان تک پہنچانا اور دفنانا مشکل ہو گیا ہے۔ اب وہ خوف کی اس بڑھی ہوئی صورت حال میں قریب ہی موجود مسلمانوں کے قبرستانوں میں مسیحی میتیں دفن کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

ایک مقامی قبرستان میں کام کرنے والے ایک کارکن احسان النطور نے بتایا وہ پچھلے دس برسوں سے قبرستان میں تدفین کے امور سے وابستہ ہے مگر اس نے یہ پہلی بار دیکھا ہے کہ مسیحیوں کی میتیں مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے لئے لانا پڑ رہی ہیں۔
وہ کہہ رہا تھا ایک کفن میں لپٹی میت کو ایک شخص نے اٹھا رکھا تھا اور ایک قبر میں اتار رہا تھا۔

احسان النطور کہہ رہا تھا یہ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا کہ ہم اپنی میتوں کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفناتے ۔لیکن اب ہمارے پاس کوئی راستہ ہی نہیں ہے۔ جنگ نے ہمیں اس قدر خوفزدہ کر رکھا ہے کہ مسیحی قبرسٹان پہنچنے سے بھی ڈر لگتا ہے۔ جس مسیحی کی میت مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کی گئی ہے اس کا نام سہیل ابو داؤد پتہ چلا ہے۔ اس کے لواحقین کا کہنا ہے کہ ہم ناکہ بندی والے علاقوں سے گذر کر اس کی لاش کو مسیحی قبرستان میں لے جانے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔ کہ راستے میں اسراائیلی فوج سے بھی خطرہ ہوتا۔ اس لئے مسلمانوں کے قبرستان تل السلطا نامی قبرستان میں ہی دفن کرنے کے کئے کے آئے۔

خیال رہے اب تک جاری اسرائیل کی غزہ جنگ میں 33390 فلسطینیوں سے زائد شہید ہو چکے ہیں۔ ان میں بہت بڑی تعداد فلسطینی بچوں اور عورتوں کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں