عالمی ثقافتی ورثہ کے دن کے ساتھ مل کر تاریخی جدہ پروگرام نے تاریخی جدہ میں آثار قدیمہ کی کھدائیوں کے نتائج کا اعلان کیا ہے۔ آثار قدیمہ کے منصوبے کے پہلے مرحلے میں تازہ ترین آثار قدیمہ کی کھدائیوں نے ایک دفاعی کھائی اور ایک قلعہ بندی کی دیوار کی باقیات کا انکشاف کیا ہے۔ اس دیوار نے شہر کو گھیر رکھا تھا۔ یہ باقیات تاریخی جدہ کے شمالی حصے میں القدوا سکوائر کے مشرق میں اور البیضاء سکوائر کے قریب واقع ہے اور کئی صدیوں پرانی ہیں۔
في #يوم_التراث_العالمي، برنامج جدة التاريخية يعلن عن اكتشاف خندق دِفاع وسور مُحصِّن في #جدة_التاريخية يرويان تاريخ جدة، المدينة الحصينة.#نافذة_على_كل_عصر pic.twitter.com/g7jlg47vXT
— برنامج جدة التاريخية (@JeddahAlbalad) April 18, 2024
تاریخی ذرائع سے پتہ چلتا ہے کہ جدہ چوتھی سے پانچویں صدی ہجری یا دسویں صدی عیسوی کے آخر اور گیارہویں صدی عیسوی کے آغاز میں ایک قلعہ بند شہر تھا ۔ ابتدائی تخمینوں کے مطابق لیبارٹری کے تجزیوں سے پتہ چلتا ہے کہ نئی دریافت ہونے والی کھائی اور دیوار کی تاریخ قدیم دور کی ہے۔ قلعہ بندی کے نظام کا بعد کا مرحلہ غالباً یہ 12ویں اور 13ویں صدی ہجری میں تعمیر کیا گیا تھا۔
آثار قدیمہ کی کھدائی سے پتہ چلتا ہے کہ 13ویں صدی ہجری کے وسط (19ویں صدی عیسوی کے وسط) تک یہ کھائی ناقابل استعمال ہو گئی تھی اور تیزی سے ریت سے بھر گئی تھی۔ تاہم قلعہ بندی کی دیوار 1947ء تک کھڑی رہی اور کھائی کے کچھ حصے اسے سہارا دے رہے تھے۔ دیوار تین میٹر کی اونچائی تک برقرار رہی ۔ ماہرین آثار قدیمہ کو 13ویں صدی ہجری (19 ویں عیسوی) کے درآمد شدہ یورپی سیرامک بھی ملے جو یورپ کے تاریخی جدہ کے ساتھ طویل مدتی تجارتی تعلقات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں ماہرین کو تیسری صدی ہجری کے مٹی کے برتنوں کے ٹکڑے بھی ملے ہیں۔
واضح رہے یہ دریافتیں آثار قدیمہ کی دریافتوں کے اس گروپ میں شمار ہوتی ہیں جس کا اعلان تاریخی جدہ پروگرام نے نوادرات کے منصوبے کے پہلے مرحلے کے نتائج کے ایک حصے کے طور پر کیا ہے۔ ہیریٹیج اتھارٹی اور نوادرات میں مہارت رکھنے والے غیر ملکی ماہرین نے زیر زمین دبی ہوئی یادگاروں کو نکالنے کی کوشش کا آغاز کیا جس کے نتیجے میں 4 آثار قدیمہ کے مقامات پر آثار قدیمہ کی 25,000 باقیات کی دریافت ہوئی ہیں۔