دبئی میں ریکارڈ بارش، ڈویلپرز کی جانب سے گھروں کی مفت مرمت کی پیشکش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

دبئی میں ہونے والی ریکارڈ بارش کے بعد رہائشیوں کو نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ رہائشی مکانات بطور خاص سیلاب کی نذر ہو گئے ہیں۔ نیز رہائشیوں کا سامان بھی سیلاب کے پانی کے ساتھ بہہ گیا ہے۔

متحدہ عرب امارات میں کئی خاندانوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے ضروریات زندگی کو بارش کی وجہ سے آئے سیلاب میں بہتے ہوئے دیکھا۔ بتایا گیا ہے کہ یہ بارش گزشتہ 75 برسوں کے دوران ریکارڈ بارش رہی ہے۔ بارش کی وجہ سے کئی لوگ اپنے گھروں کو چھوڑ کر بھی گئے ہیں۔

دبئی میں بارشوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال کے بعد گلیوں میں بھرے ہوئے پانی کی نکاسی کا کام کیا جا رہا ہے۔ نیز درختوں اور گاڑیوں کو بھی راستے سے ہٹانے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس پس منظر میں دبئی پراپرٹی ڈویلپرز نے کہا ہے کہ 'متاثرہ گھروں کی مرمت کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ نیز رہائشیوں کی ہر ممکنہ مدد کی جائے گی۔'

گھروں کی مفت مرمت

دبئی کے 'ایمار پراپرٹیز' کے ترجمان نے کہا ہے کہ حالیہ بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے تباہی کا سامنا کرنے والے گھروں کی مرمت بغیر کسی معاوضے کے کریں گے۔

جمعہ کے روز 'ایمار پراپرٹیز' کے ترجمان نے بتایا 'ایمار کمیونٹی' میں موجود نئے اور پرانے گھروں کی تعمیر و مرمت کا کام کیا جائے گا۔ کیونکہ حالیہ بارشوں کے بعد ملک میں کام تعطل کا شکار ہوئے ہیں۔'

'ایمار' کے بانی محمد الابار نے کہا 'یہ میرے لیے خوشی کا باعث ہے کہ ایمار کمیونٹی کے رہائشیوں کے گھروں اور عمارتوں کی مرمت کا کام بغیر کسی معاوضے کے کیا جائے گا۔ حالیہ بارشوں سے کافی نقصان پہنچا ہے۔ 'ایمار' اپنی اس کوشش سے رہائشیوں کو جلد سے جلد معمولات زندگی میں واپس لانا چاہتے ہیں۔

محمد الابار نے مزید کہا 'کسی بھی قسم کی پریشان کن صورتحال میں 'ایمار' کی طرف سے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کا وعدہ ہے۔ جس میں ہم اپنے صارفین کے گھروں کی مرمت کا کام کریں گے۔'

'ایمار پراپرٹیز' نے بتایا کہ مقامی حکام سے رابطے میں ہیں۔ تاکہ تباہ ہونے والی املاک اور علاقوں کا جائزہ لے سکیں۔ نیز ان کی تعمیر و مرمت کا کام جلد شروع کیا جا سکے۔ جن لوگوں کے گھروں کو نقصان پہنچا ہے وہ کال سینٹر کے ذریعے 'ایمار پراپرٹیز' سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

خیال رہے 'ایمار پراپرٹیز' دبئی پراپرٹی مارکیٹ میں 30 فیصد کاروبار رکھتا ہے۔ علاوہ ازیں برج خلیفہ بنانے میں بھی 'ایمار پراپرٹیز' کا کردار رہا ہے۔ نیز کئی رہائشی کمیونٹی اور شاپنگ سینٹرز بھی 'ایمار پراپرٹیز' ہے بنائے ہوئے ہیں۔

دبئی کی ایک اور پراپرٹی کمپنی 'دمک' کے ترجمان نے العربیہ سے بات کرتے ہوئے بتایا 'مقامی حکام سے رابطے میں ہیں تاکہ رہائشیوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔ نیز نجی فرمز کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

'دمک' کے ترجمان نے جمعہ کے روز بات کرتے ہوئے کہا 'سیلابی پانی کا بڑا حصہ سڑکوں سے نکال دیا گیا تھا۔ تاکہ رہائشوں کو پانی کی وجہ سے آمد و رفت میں مشکلات کا سامنا نہ ہو۔ نیز رہائشیوں کو کسی قسم کے انفیکشن سے بچانے کے لیے بھی کام شروع کر چکے ہیں۔ ہماری ٹیمیں 'فوگنگ ٹریٹمنٹ' اور 'پیسٹ کنٹرول' کے ذریعے انفیکشن کو روکنے کے لیے کام کر رہی ہے۔

سیلاب متاثرین کی عارضی رہائش

دبئی کے ہوٹلوں میں سیلاب متاثرین کی بڑی تعداد موجود ہے۔ ہوٹل مینیجمینٹ کا کہنا ہے کہ سیلاب متاثرین کی بڑی تعداد ہوٹلوں کا رخ کر چکی ہے۔ کچھ ہوٹلوں میں پانی و بجلی بھی متاثر ہے۔

سیلاب سے متاثرہ علاقہ ڈیماک ہلز میں واقع ریڈیسن ہوٹل کے جنرل مینیجر سڈ ستناتھن نے العربیہ سے بات کرتے ہوئے کہا 'ہوٹل بہت مصروف ہیں۔ سیلاب کی وجہ سے سارے ہوٹل بھر چکے ہیں۔ سیلاب متاثرین ہوٹلوں کا رخ کر رہے ہیں۔ ہوٹلوں کے کھانوں کی فروخت بھی دوگنی ہوگئی ہے۔'

متحدہ عرب امارات کے تاجر خلف احمد الحبتور نے کہا ہے کہ وہ بارش سے تباہ ہونے والے گھروں کی مرمت کے 4 ملین ڈالر کا عطیہ دے گا۔ علاوہ ازیں حبتور گروپ کے ہوٹلز سیلاب متاثرین کو ہوٹل میں مفت قیام و طعام کی سہولت دے رہے ہیں۔ جبکہ باقی ہوٹل رعایتی نرخوں پر ہوٹل میں قیام و طعام کی سہولت فراہم کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں