سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے سعودی شہری عبدالرحمن بن سایر بن عبداللہ الشمری کے خلاف فوج داری کارروائیوں کے ارتکاب پر سزائے موت سنائی۔ ملزم کےخلاف ملک کے ساتھ غداری اور دہشت گردانہ رویہ اختیار کرنے مملکت کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کا الزام عاید کیا گیا۔
بیان میں اشارہ کیا گیا ہے کہ مجرم نے جنگی علاقوں میں جانے، دہشت گرد گروپ میں شامل ہونے اور اس میں قیادت کا عہدہ سنبھالنے، جنگی کارروائیوں میں حصہ لینے، دہشت گردی کی کارروائیوں کی مالی معاونت کے علاوہ ملک کے ساتھ غداری جیسے سنگین جرائم کا ارتکاب کیا تھا۔
تنفيذ حُكم القتل بجانٍ لارتكابه أفعالاً مجرمة تنطوي على خيانة وطنه وانتهاجه منهجًا إرهابيًا يستبيح بموجبه الدماء والأموال والأعراض، ومبايعته زعيم تنظيم إرهابي، وذهابه إلى مناطق القتال وانضمامه لكيان إرهابي وتوليه منصبًا قياديًا فيه، ومشاركته في أعماله القتالية، وتمويله الإرهاب… pic.twitter.com/huseN2rgXc
— وزارة الداخلية (@MOISaudiArabia) April 22, 2024
بیان میں کہا گیا ہے "پبلک پراسیکیوشن" کی تحقیقات نے مذکورہ شخص پر ان مجرمانہ حرکتوں کے ارتکاب کا الزام عائد کرتے ہوئےاس کے خلاف فوج داری دفعات کے تحت مقدمہ چلایا۔
وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہونے والے عناصر اور ملک کے ساتھ غداری کرنے والوں سے کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی بلکہ اس نوعیت کے تمام ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔