فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیل کے بڑھتے ہوئے حملے کے درمیان رفح سے لوگوں کا انخلاء ممکن نہیں: ریڈ کراس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

ریڈ کراس کے ایک اہلکار نے منگل کو اے ایف پی کو بتایا کہ انسانی ہمدردی کے کارکنان کو غزہ کے جنوبی شہر سے فلسطینیوں کو متوقع اسرائیلی حملے سے پہلے نکالنے کے منصوبے کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے لیکن موجودہ حالات میں ایسی منتقلی "ممکن" نہیں ہو گی۔

انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس (آئی سی آر سی) کے نزدیک و شرقِ اوسط کے علاقائی ڈائریکٹر فیبریزیو کاربونی نے متحدہ عرب امارات میں ایک امدادی کانفرنس کے موقع پر کہا، "افواہ یہ ہے کہ رفح میں کسی بڑی کارروائی کا امکان بڑھ رہا ہے۔"

انہوں نے مزید کہا، "جب ہم (غزہ کے) وسطی علاقے اور شمال میں تباہی کی سطح دیکھتے ہیں تو یہ واضح نہیں ہوتا کہ لوگوں کو کہاں منتقل کیا جائے گا۔۔ جہاں انہیں مناسب پناہ اور ضروری سہولیات میسر ہوں۔ اس لیے آج ہمارے پاس موجود معلومات اور جہاں ہم کھڑے ہیں، وہاں سے ہمیں یہ (بڑے پیمانے پر انخلاء) ممکن نظر نہیں آتا۔"

غزہ کی 2.4 ملین آبادی میں سے 1.5 ملین سے زیادہ نے رفح میں پناہ لی تھی۔ یہ غزہ میں آبادی کا آخری بڑا مرکز ہے جہاں اسرائیلی زمینی فوجی دستوں کا داخل ہونا ابھی باقی ہے حالانکہ ہزاروں افراد کو شمال کی طرف واپس جاتے دیکھا گیا ہے۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے دو ماہ سے رفح میں فوج بھیجنے کی بات کی ہے تاکہ غزہ کا انتظام چلانے والے فلسطینی گروپ حماس کا پیچھا کیا جا سکے۔

اتوار کو انہوں نے کہا کہ سات اکتوبر کو اسرائیل پر حملے کے ذمہ دار اس گروپ کو "مزید اور تکلیف دہ ضرب لگانے" کے لیے اسرائیلی فوج دباؤ بڑھائے گی جس کی وجہ سے جنگ شروع ہوئی۔

لیکن واشنگٹن سمیت اسرائیل کے اتحادیوں نے غزہ کے پہلے سے تباہ کن انسانی حالات کے مزید بگڑنے کے خدشے کے پیشِ نظر رفح آپریشن کے خلاف خبردار کیا ہے۔

کاربونی نے منگل کو دبئی انٹرنیشنل ہیومینٹیرین ایڈ اینڈ ڈویلپمنٹ کانفرنس (ڈی آئی ایچ اے ڈی) میں انٹرویو کے دوران کہا، "ہمیں اس وقت شہریوں کے انخلاء کا کوئی منصوبہ نظر نہیں آرہا ہے۔"

انہوں نے مزید کہا، لیکن " فوجی کارروائی کا تباہ کن انسانی نتائج کے علاوہ کوئی انجام نہیں۔"

"تباہی کی سطح اور یہ کہ لوگ تھک چکے ہیں، کچھ زخمی اور بیمار ہیں اور خوراک اور ضروری سہولیات تک رسائی محدود ہے، اس بات کو مدِنظر رکھتے ہوئے میرے نزدیک یہ (انخلا) انتہائی چیلنجنگ ہے۔"

'انتہائی تباہ کن صورتِ حال'

اسرائیلی حکومت نے کہا کہ وہ انخلاء کے مختلف منظرناموں کی منصوبہ بندی کر رہی تھی جس میں خیمہ شہروں کی تشکیل بھی شامل ہے جو لڑائی سے بچ جائیں گے اور بین الاقوامی تعاون سے قائم کیے جائیں گے۔

جن مصری حکام کو اس اسرائیلی منصوبے کے بارے میں بریفنگ دی گئی، ان کا حوالہ دیتے ہوئے وال سٹریٹ جرنل نے بتایا کہ انخلاء کا یہ آپریشن دو سے تین ہفتے تک جاری رہے گا اور یہ امریکہ اور عرب ممالک کے ساتھ مل کر کیا جائے گا۔

لیکن کاربونی نے کہا کہ انخلاء اس مختصر وقت میں مکمل کرنا "مشکل" ہوگا۔

منگل کو ڈی آئی ایچ اے ڈی میں ناروے کی پناہ گزین کونسل (این آر سی) کے سربراہ نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا، "زمین پر نقلِ مکانی کے سب سے بڑے کیمپ رفح میں ہر کوئی جنگ شروع ہونے کے دن گن رہا ہے۔"

رفح کے حملے کو ایک "انتہائی تباہ کن صورتِ حال" قرار دیتے ہوئے جین ایجلینڈ نے کہا کہ غزہ کے اندر کام کرنے والے امدادی کارکنان کو رفح حملے کے دوران شہریوں کی تکالیف کم کرنے کے منصوبوں کے بارے میں بریفنگ نہیں دی گئی۔

انہوں نے کہا، " کوئی معلومات نہیں، انسانی ہمدردی کے کاموں سے متعلق کوئی مشاورت نہیں ہوئی، کوئی مشورہ، کوئی امید نہیں۔"

ایجلینڈ نے کہا، غزہ میں انسانی کارکنان کے لیے"عطیہ دہندگان کی طرف سے کچھ سننے میں نہیں آ رہا۔ اسرائیل کے مغربی سپانسرز اور خود اسرائیل کی طرف سے کچھ سننے میں نہیں آرہا۔"

نیز انہوں نے کہا، "انہوں نے یہ سنا ہے کہ نیتن یاہو کہتے ہیں کہ وہ حملہ کریں گے لیکن اس کے بارے میں کوئی منصوبہ نہیں ہے کہ عام شہری کہاں جائیں، امداد کیسے فراہم کی جائے یا رسائی کو کیسے محفوظ بنایا جائے۔"

"ہم مکمل طور پر اندھیرے میں ہیں کہ اس آنے والی تباہی کی شدت اور تکلیف کو کیسے کم کیا جائے۔"

'کوئی محفوظ جگہ نہیں'

ایجلینڈ نے کہا، غزہ میں داخل ہونے والی مختصر سی امداد کو اسی وقت تقسیم کیا جا رہا ہے جس میں کوئی بڑا ذخیرہ نہیں بچا ہے جو آبادی کی بڑی نقل و حرکت کی صورت میں استعمال ہو سکے۔

این آر سی کے سربراہ نے مزید کہا، "یہاں کوئی ذخیرہ نہیں، کوئی ایندھن نہیں اور زیادہ اہم بات یہ ہے کہ کوئی لیکویڈیٹی نہیں ہے۔ پیسے نہیں ہیں، ہم اپنے عملے کی تنخواہیں نہیں دے سکتے۔ ہم خدمات فراہم کرنے والے لوگوں کو ادائیگی نہیں کر سکتے۔"

ایجلینڈ نے کہا کہ حالیہ ہفتوں میں کچھ فلسطینی شمالی غزہ کے علاقوں میں واپس آئے تھے لیکن دس لاکھ سے زیادہ رفح میں ہی رہ گئے۔

انہوں نے کہا، یہاں سے چھوڑ جانے والوں کے لیے "شمال میں کھنڈرات رہ گئے ہیں، مکمل کھنڈرات اور نہ پھٹ سکنے والا دھماکہ خیز مواد اور کئی صورتوں میں مزید بمباری۔"

"اگر لوگ رفح سے نکل جائیں تو غزہ میں کوئی محفوظ جگہ نہیں ہے۔"

غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیل کی جوابی کارروائی میں غزہ میں کم از کم 34,183 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں