سعودی عرب کا سیاحت کا شعبہ 2030 تک ہوٹلوں کے 320,000 کمروں کا اضافہ کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

ایک نئی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے طول و عرض میں 2030 تک ہوٹل کے 320,000 نئے کمروں کی تعمیر کا تخمینہ لگایا گیا ہے جس سے سالانہ 150 ملین ملکی اور بین الاقوامی سیاحوں کی ایک بڑی تعداد کو قیام کی سہولت ملے گی۔

جائیداد کی عالمی کنسلٹنسی نائٹ فرینک کے اعداد و شمار کے مطابق اس توسیع سے ملک کی سفر اور سیاحت کی صنعت کو فروغ ملے گا جو پہلے ہی سعودی عرب کی مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً چھ فیصد ہے۔ اس کے علاوہ یہ 2030 تک معیشت میں سیاحت کا حصہ 10 فیصد تک لے جانے کا حکومتی ہدف حاصل کرنے کے لیے مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔

مملکت کے مہمان نوازی کے شعبے کے بارے میں نائٹ فرینک کا تجزیہ 2022 کے فوری بعد سامنے آیا ہے جب سعودی عرب نے ریکارڈ تعداد میں سیاحوں کا خیرمقدم کیا۔

2023 کی پہلی ششماہی میں سیاحت کے اخراجات 23.2 بلین ڈالر (87 بلین سعودی ریال) تک پہنچ گئے جو 2022 کی اسی مدت کے مقابلے میں 132 فیصد زیادہ ہیں۔ اسی ششماہی مدت کے دوران مملکت نے بین الاقوامی آمد کی 14.6 ملین تعداد ریکارڈ کی جو سال بہ سال 142 فیصد کا اضافہ ہے۔ یہ اعداد و شمار سعودیہ کی سیاحت کی صنعت کی مستحکم ترین ششماہی کارکردگی کے ریکارڈ کی عکاسی کرتے ہیں۔

ترقی بنیادی طور پر بحرین، کویت اور مصر جیسے قریبی خلیجی ممالک سے آنے والے زائرین کی وجہ سے ہوئی ہے جو غیر ملکی سیاحوں کے تین سرِفہرست ذرائع کے طور پر ابھرے ہیں۔ البتہ مملکت نے بیرونِ ملک سے آنے والے مزید زائرین کو اپنی طرف متوجہ کرنے پر توجہ مرکوز رکھی ہے۔

فرینک نائٹ مڈل ایسٹ کے شراکت دار اور مہمان نوازی، سیاحت و تفریح کی ایڈوائزری کے سربراہ تراب سلیم نے کہا، "بین الاقوامی مسافروں کو راغب کرنے کے لیے سعودی حکومت مختلف طریقوں کی تلاش میں سرگرم ہے جس کا ہدف 2030 تک 150 ملین زائرین کا استقبال کرنا ہے اور یہ سابقہ ہدف سے 50 فیصد زیادہ ہے۔ موجودہ پرکشش پروگراموں مثلاً جدہ ایف ون گراں پری اور متعدد 'تفریحی سیزن' کی تکمیل کے لیے مملکت کے طول و عرض میں ثقافتی اور تفریحی مواقع کو ترقی دینا اس میں شامل ہے۔"

عالمی زائرین کو راغب کرنے کے لیے تفریح اور تقریبات

موجودہ قابلِ ذکر تفریحی منصوبوں میں ریاض میں بلیوارڈ ورلڈ جیسے تھیم پارکس شامل ہیں جو گذشتہ سال کے دوران سعودی جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی کے لائسنس یافتہ دیگر دو درجن پارکوں میں شامل ہو جائیں گے۔

مقامی سرمایہ کاری بینک الراجحی کیپٹل کے مطابق ریاض میں ورلڈ ایکسپو 2030 کی میزبانی کے حصول میں مملکت کی کامیابی سے بھی توقع ہے کہ چھ ماہ کے ایونٹ کے دوران 40 ملین زائرین یہاں راغب ہوں گے جس سے سعودی معیشت میں 94.6 بلین ڈالر شامل ہوں گے۔

رپورٹ کے مطابق مہمان نوازی کے شعبے میں متوقع یہ تیز رفتار توسیع ہوٹل عملے کے لیے مناسب رہائش فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔

نائٹ فرینک کے تخمینوں کے مطابق سعودی عرب میں ہوٹلوں کے 320,000 نئے کمروں میں سے 67 فیصد "اعلیٰ درجے" کے یا "پرتعیش" 4 اور 5 سٹار ہوں گے جن کے لیے عموماً فی کمرہ عملے کے ایک تا دو افراد کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس سے پتہ چلتا ہے کہ مہمان نوازی کے شعبے کی نشوونما کے ساتھ 232,000 اور 387,000 کے درمیان شعبۂ سیاحت کے اہم کارکنان کو رہائش کی ضرورت ہو سکتی ہے۔

میریئٹ سعودی عرب کا سب سے بڑا ہوٹل آپریٹر بننے جا رہا ہے

رپورٹ میں یہ بھی دیکھا گیا کہ 2030 تک ہوٹل آپریٹرز کے لیے مسابقتی منظرنامہ کس طرح بدل جائے گا۔ جبکہ اکور اس وقت کمروں کی تعداد کے لحاظ سے سعودی کا سب سے بڑا آپریٹر ہے لیکن نائٹ فرینک کو توقع ہے کہ میریٹ انٹرنیشنل مملکت میں اپنے زیرِ انتظام 26,200 کمروں کے ساتھ سرِفہرست مقام کا درجہ حاصل کر لے گا۔ اس کے مقابلے میں اکور کا تخمینہ 25,400 ہے۔

نائٹ فرینک مڈل ایسٹ کے شراکت دار اور سربراہ شعبۂ تحقیقات فیصل درانی نے نوٹ کیا، "سعودی سیاحت کے عزائم کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے مہمان نوازی کے عملے کے لیے معیاری رہائش کی فراہمی ضروری ہو گی۔ کارکنان کی مناسب رہائش نہ صرف ملازمین کو راغب کرنے اور برقرار رکھنے میں مدد کرتی ہے بلکہ محلِ وقوع اور کرایہ دار کے معیار جیسے عوامل کی بنیاد پر یہ رہائشی اثاثہ جات سرمایہ کاروں کے لیے تقریباً 10 فیصد پیداوار بھی فراہم کر سکتے ہیں۔"

حجازِ مقدس میں مذہبی سیاحت کے فروغ کے لیے اربوں کا سرمایہ

ملک گیر ہوٹلوں کی ترقی کی پیشین گوئیوں کے علاوہ نائٹ فرینک کا تجزیہ خاص طور پر سعودی عرب کے مقدس شہروں مکہ و مدینہ میں ہوٹل سپلائی کی پائپ لائن پر مرکوز تھا۔ ایک اندازے کے مطابق دونوں شہروں میں ہوٹل کے 221,000 نئے کمروں کا اعلان اور منصوبہ بندی ہو چکی تھی یا وہ زیرِ تعمیر تھے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مسار مکہ پروجیکٹ کے لیے 40,000 کمرے طے شدہ ہیں اور 39,000 مزید کمرے ذاخر ڈویلپمنٹ پروجیکٹ کے تحت آنے والے ہیں یعنی 2030 تک سعودیہ کے ہوٹلوں کے کل متوقع اضافے کا 24 فیصد سے زیادہ حصہ دو مقدس شہروں میں مرکوز ہے۔

نائٹ فرینک مڈل ایسٹ میں شراکت دار اور ہیڈ آف ہاسپیٹیلیٹی ویلیویشن اینڈ ایڈوائزری ڈینیل پگ نے کہا، "مملکت کے مہمان نوازی کے عزائم کا پیمانہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب آپ تعمیراتی اخراجات کے تخمینے پر غور کرتے ہیں۔ ہمارے حساب سے پتہ چلتا ہے کہ ملک بھر میں ہوٹلوں کے 320,000 کمروں کی تعمیر کے اخراجات کے لیے تقریباً 104 بلین ڈالر درکار ہوں گے جس میں سے 70 بلین ڈالر مکہ اور مدینہ کے 221,000 کمروں کے لیے وقف ہیں۔"

توقع ہے کہ 2025 تک سالانہ 30 ملین مذہبی زائرین مقدس شہروں کا دورہ کریں گے تو بڑے پیمانے پر مہمان نوازی کی توسیع کا مقصد مذہبی زائرین کی خدمت کرنا ہے۔ حکومت کا اندازہ ہے کہ یہ تعداد 2030 تک 50 ملین زائرین تک پہنچ جائے گی کیونکہ یہ عالمی مذہبی سیاحتی مرکز کے طور پر سعودی مملکت کی حیثیت کو مستحکم کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں