براؤن یونیورسٹی کا طلباء کے احتجاج کے بعد اسرائیل سے روابط منقطع کرنے پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

براؤن یونیورسٹی نے منگل کے روز غزہ میں جنگ کے خلاف احتجاج کرنے والے طلباء کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جس کے تحت سکول کے میدانوں سے احتجاجی کیمپ ہٹانے کے عوض ادارہ اسرائیل سے علیحدگی پر غور کرے گا۔

طلباء کے حالیہ نہایت شدید احتجاجی مظاہروں کے درمیان یہ اقدام طبقۂ اشرافیہ کی ایک امریکی یونیورسٹی کی طرف سے پہلی بڑی رعایت کی نمائندگی کرتا ہے۔ ان مظاہروں نے ملک کے طول و عرض میں تعلیمی اداروں کے کیمپسز کو مفلوج اور رائے عامہ کو تقسیم کر دیا ہے اور سیکڑوں گرفتاریوں کا باعث بنے ہیں۔

ایک بیان میں براؤن کی صدر کرسٹینا پیکسن نے کہا کہ طلباء اس بات پر رضامند ہو گئے کہ وہ اپنا احتجاج ختم اور مقامی وقت کے مطابق منگل کی شام 5:00 بجے تک کیمپ خالی کر دیں گے اور "تعلیمی سال کے اختتام تک مزید ایسے اقدامات سے گریز کریں گے جن سے براؤن یونیورسٹی کے ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی ہو۔"

اس کے عوض "پانچ طلباء کو مئی میں کارپوریشن آف براؤن یونیورسٹی کے پانچ ممبران سے ملاقات کے لیے مدعو کیا جائے گا تاکہ وہ 'غزہ میں نسل کشی کو ممکن بنانے اور اس سے فائدہ اٹھانے والی کمپنیوں' سے براؤن کے مالی روابط منقطع کرنے کے لیے اپنے دلائل پیش کریں۔"

معاہدے کی خبر سن کر طلبہ مظاہرین نے خوشی سے چھلانگیں لگائیں اور اپنے خیمے ہٹانے سے پہلے "خوف سے نہیں محبت سے، انقطاع قریب آ رہا ہے" کے نعرے لگائے۔

براؤن کے طالب علم لیو کورزو-کلارک نے کہا، "ہم یہ جانتے ہوئے (احتجاجی کیمپ) ختم کر رہے ہیں کہ ہم نے براؤن کے (اسرائیل سے) روابط منقطع کرنے کے لیے، اس بین الاقوامی تحریک کے لیے اور فلسطین کے لوگوں کے لیے ایک بہت بڑی فتح حاصل کی ہے۔"

مظاہرین میں شامل ایک اور طالب علم سیم تھیوہاریس نے کہا، پروویڈنس، رہوڈ آئی لینڈ میں واقع یونیورسٹی "ہمارے مطالبات اور اپنے طلباء کو سننے اور جنگ سے، موت سے، قبضے سے علیحدگی اختیار کرنے پر غور کرنے کے لیے میز پر آ گئی ہے۔"

اپنے بیان میں پیکسن نے کہا، "شرقِ اوسط میں ہونے والی تباہی اور جانی نقصان نے کئی لوگوں کو بامعنی تبدیلی کا مطالبہ کرنے پر آمادہ کیا ہے جبکہ اس کے بہترین طریقے سے انجام پانے کے بارے میں بھی حقیقی مسائل اٹھائے ہیں۔"

لیکن انہوں نے مزید کہا: "اشتعال انگیز بیانات میں اضافہ جو ہم نے حال ہی میں دیکھا ہے اور ملک بھر کے کیمپس میں کشیدگی کے بارے میں مَیں فکر مند ہوں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں