امریکی و برطانوی فوجی شخصیات پر ایران نے پابندی عائد کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران نے بھی امریکی اور یورپی ملکوں کے راستے پر چلتے ہوئے متعدد امریکی و برطانوی شخصیات اور اداروں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ ان شخصیات اور اداروں پر الزام ہے کہ وہ غزہ جنگ میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی مدد کرنے والوں میں شامل ہیں۔

اسلامی جمہوریہ ایران اسرائیل کے بڑے مخالف ملکوں میں سے ایک ہے۔ اس نے اپنی وزارت خارجہ کے توسط سے امریکیوں اور برطانویوں پر پابندیاں لگائی ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے اعلان کے مطابق ان ایرانی پابندیوں کی زد میں سات امریکی آئے ہیں۔ ان میں امریکی جنرل بریان پی فینٹ بھی شامل ہیں جو امریکی سپیشل آپریشنز کمانڈ کے سربراہ ہیں اور امریکہ کے وائس ایڈمرل ہیں۔

اس کے علاوہ امریکی بحریہ کے پانچویں بحری بیڑے کے سابق کمانڈر بھی شامل ہیں۔ ان برطانوی حکام میں دفاعی امور کے سیکرٹری آف سٹیٹ گرانٹ شیپس بھی شامل ہیں۔ نیز برطانیہ کی سٹریٹجک فورس کے کمانڈر جیمز ہاکی ہل اور بحیرہ احمر میں برطانیہ کی رائل نیوے کے ذمہ دار بھی شامل ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ پابندیوں میں ایرانی مالیاتی اور بینکنگ نظام میں اکاؤنٹس اور لین دین کو معطل کرنا ، اسلامی جمہوریہ ایران کے دائرہ اختیار میں اثاثوں کو معطل کرنے کے ساتھ ساتھ ویزا جاری کرنے اور ایرانی سرزمین میں داخلے پر پابندی شامل ہے۔ افراد یا اداروں کے ساتھ ساتھ ان کے اثاثوں یا ایران کے ساتھ معاملات پر ان اقدامات کا اثر ابھی تک واضح نہیں ہے۔

ایران حماس کی حمایت کرتا ہے لیکن اس نے حملے میں براہ راست ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔ اس علاقے کی وزارت صحت کے مطابق، حماس کے خلاف اسرائیل کی انتقامی کارروائی کے نتیجے میں غزہ میں کم از کم 34596 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں