امریکہ : اسرائیل کو بموں کی ایک شمپنٹ نہ بھیجنے کی دھمکی

اربوں ڈالر کی فوجی امداد راستے میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

امریکہ اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی نوعیت سب سے جدا اور نرالی ہے۔ اس کا ایک اظہار غزہ میں اسرائیل کی فلسطینیوں کے لیے تباہ کن اور ہلاکت خیز جنگ کے دوران دیکھنے میں آیا کہ کسی بھی محاذ اور کسی بھی مرحلے پر امریکہ نے اسرائیل کو تنہا نہیں چھوڑا بلکہ کندھے سے کندھا ملا کر ساتھ کھڑا رہا۔

پچھلے دنوں میں انتباہ آیا کہ رفح پر اسرائیلی زمینی حملے کی وجہ سے بوئنگ ساختہ 'ان گائیڈڈ' بموں سمیت بعض دوسرے بموں کی شپمنٹ اسرائیل کو نہیں دی جائے گی۔ پھر یہ بھی دھمکی ملی کہ رفح جنگ وسیع ہوئی تو مزید ہتھیاروں کی ترسیل روکی جا سکتی ہے۔

امریکہ کافی عرصے سے اسرائیلی وزیراعظم کو اس بارے میں باور کرا رہا ہے کہ رفح پر حملے سے پہلے سویلینز کی ہلاکتیں کم رکھنے کے لیے احتیاطی تدابیر اور ایک منظم منصوبے کی ضرورت ہے۔ اس کے بغیر رفح پر حملہ بہت بڑی تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔ کیونکہ وہاں 13 سے 14 لاکھ پناہ گزین غزہ کے دوسرے حصوں سے نقل مکانی کر کے آئے ہیں۔

اس تناظر میں'ان گائیڈڈ' بموں کی جو شپمنٹ روکی گئی ہے اس کی مالیت دسیوں ملین ڈالر ہو سکتی ہے۔ تاہم ماہ اپریل کے آغاز میں اسرائیل کے لیے جس فوجی امداد کی امریکہ میں منظوری دی گئی ہے وہ اربوں ڈالر کی ہے اور اسرائیل کے لیے پائپ لائن میں ہے۔

امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ 'بوئنگ ساختہ 'ان گائیڈڈ' میزائل کی شپمنٹ روکنے کے باوجود اربوں ڈالر کی فوجی امداد کو روکنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ اس میں 'جوائنٹ ڈائریکٹ اٹیک ایمونیشن (جے ڈی اے ایم ایس) جو بموں کو ٹیکٹیکل ہتھیاروں میں تبدیل کر دے گی، ٹینکوں کے گولے، توپ خانے کے گولے، ٹینک اور دوسرے ٹیکنیکل وہیکلز شامل ہیں۔ یہ بات ری پیبلیکنز سینیٹر جن رش نے فارن ریلیشنز کمیٹی کی میٹنگ کے بعد رپورٹرز کو بتائی۔ سینیٹر نے کہا 'یہ اسلحہ جتنی تیزی سے جانا چاہیے اس میں ابھی اتنی تیزی نہیں ہے۔ اس اسلحے کے حوالے سے کام دسمبر میں ہو جانا چاہیے تھا۔'

دوسری طرف جوبائیڈن انتظامیہ کے حکام کہہ رہے ہیں کہ ہم فی الحال اسلحہ کی ترسیل کے بعض پہلوؤں کو از سر نو دیکھ رہے ہیں۔ تاہم یہ معاملہ رفح کی جنگ کی حد تک ہے اور بعض مخصوص ہتھیاروں سے متعلق ہے۔

واضح رہے اب تک اسرائیل کی غزہ جنگ میں تقریباً 35 ہزار فلسطینی قتل کیے جا چکے ہیں جبکہ 23 سے 24 لاکھ کی غزہ کی آبادی میں سے غالب اکثریت بے گھر ہو چکی ہے۔

ڈیموکریٹک پارٹی کے ایوان نمائندگان سے تعلق رکھنے والے رکن گریگوری میکس کا کہنا ہے 'فارن افیئرز کمیٹی میں اسرائیل کو 18 ارب ڈالر کا اسلحہ منتقل کرنے کا معاملہ فی الحال روک رکھا ہے۔ اس میں ایف 15 قسم کے جنگی طیارے بھی شامل ہیں۔ تاہم کمیٹی اس بارے میں مزید معلومات حاسل کرنا چاہتی ہے کہ اسرائیل اس اسلحے کا استعمال کہاں کہاں اور کیسے کرے گا۔'

ڈیموکریٹس میں ایسے بہت سے لوگ ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ غزہ جنگ کے دوران اسرائیل کی کھلی حمایت نے صدر جوبائیڈن کے لیے بطور خاص ایک سیاسی مشکل پیدا کر دی ہے۔ اس کے نتیجے میں صدر جوبائیڈن کی انتخابی مہم میں بھی اثرات نظر آرہے ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے جمعرات کے روز ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے 'ہم اپنے ناخنوں سے بھی لڑیں گے، اگرچہ ہمارے پاس ایسا بہت کچھ موجود ہے جو ناخنوں سے کہیں زیادہ ہے۔ ہم اپنے اسی جذبے اور اتحاد کی بنیاد پر خدا کی مدد سے لڑیں گے اور جیتیں گے۔'

ری پبلیکن لیڈر میچ میکونل نے سینیٹ میں اپنی تقریر کے دوران کہا ہے 'ری پیبلیکنز ارکان کانگریس صدر جوبائیڈن پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ اسرائیل کے ساتھ اسلحہ کے سلسلے میں کیے گئے وعدوں کو تیزی سے پورا نہیں کر رہے اور اگر کمانڈر ان چیف ہی اس بات کی سیاسی حوصلہ مندی نہ رکھتا ہو کہ وہ اپنے مؤقف پر کھڑا رہ سکے اور اپنے اتحآدی کا جنگ کے دنوں میں ساتھ نہ دے تو یہ بڑی خطرناک بات ہے۔'

علاعہ ازیں ریپیبلیکنز کے 10 دیگر سینیٹرز نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس کر کے صدر جوبائیڈن کی مذمت کے لیے ایک قرارداد پیش کرنے کا اعلان کیا جس میں کہا جائے گا کہ جوبائیڈن انتظامیہ کا اسرائیل کے لیے اسلحہ کی سپلائی روکنا قابل مذمت ہوگا۔

وائٹ ہاؤس میں قومی سلامتی کے ترجمان جان کربی نے رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'آج بھی اسرائیل کو اس کے دفاع کے لیے اسلحہ دیا جا رہا ہے۔ جبکہ صدر جوبائیڈن اسرائیل کو مزید اسلحہ دینے میں بھی مسلسل کام کر رہے ہیں۔ جو اسرائیل کی جنگی و دفاعی صلاحیت کو بڑھانے والا ہو۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں