حماس رہ نما اسماعیل ھنیہ کی تہران میں ابراہیم رئیسی کی نماز جنازہ میں شرکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ھنیہ نے آذربائیجان کی سرحد کے قریب ہیلی کاپٹر کے حادثے میں فوت ہونے والے ایرانی صدر ابراہیم رئیسی اور وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کی نماز جنازہ اور تدفین کی تقریب میں شرکت کے لیے تہران پہنچ گئے ہیں۔

حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ھنیہ نے بدھ کے روز تہران یونیورسٹی میں ایرانی صدر کی نماز جنازہ میں شرکت کے دوران کہا کہ ایران فلسطین اور مزاحمت کی حمایت کی اپنی پالیسی کو جاری رکھے ہوئے ہے۔

ھنیہ نے کہا کہ "مرحوم صدر ابراہیم رئیسی نے ہمیں کہا تھا کہ ’طوفان الاقصیٰ‘ ایک ایسا زلزلہ تھا جس نے صہیونی وجود کو ہلا کر رکھ دیا اور دنیا میں ایک تاریخی تبدیلی کا باعث بنا۔ طوفان الاقصیٰ نے مسئلہ فلسطین کو پوری دنیا کا واحد حل طلب مسئلہ بنا دیا ہے اور پوری دنیا میں فلسطین کی آزادی کے لیے آوازیں اٹھ رہی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مرحوم صدر نے ہمیں یقین دلایا تھا کہ ایران فلسطینی عوام اور مسلم امہ کی امنگوں کے حصول تک فلسطینی مزاحمت کی حمایت جاری رکھے گا اور ہمیں یقین دلایا گیا کہ مزاحمت کے محور کے قائدین کی موجودگی میں اسلامی جمہوریہ ایران فلسطینی مزاحمتی تحریک کی حمایت جاری رکھے گا۔

ہنیہ نے کہا کہ "یہاں سے ہم اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ غزہ اس وقت تک اپنی مزاحمت جاری رکھے گا جب تک کہ اس کے دل میں مبارک یروشلم موجود ہے ہم مزاحمت ترک نہیں کریں گے"۔

ایرانی میڈیا کے مطابق تہران کے رہائشیوں، مسلح افواج کے اہلکاروں اور ملکی حکام کی بڑی تعداد نے آج بدھ کی صبح صدر رئیسی کے جنازے میں شرکت کی۔

ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے آج بدھ کو فوت ہونے والے صدر ابراہیم رئیسی کی میت کی نماز جنازہ ادا کی۔ تہران یونیورسٹی اور اس کے گردونواح میں لوگوں کا جم غفیر جمع ہوگیا تھا۔ اس موقعے پرفاتحہ خوانی اور نوحہ خوانی کی گئی۔

رئیسی کی تدفین کل بروز جمعرات شمال مشرقی ایران میں ان کے آبائی شہر مشہد میں کی جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں