مصر کی رفح کراسنگ تاحال بند، غزہ کے لیے امداد دھوپ میں خراب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

مصر سے غزہ کی پٹی میں داخل ہونے کی منتظر کچھ غذائی امداد خراب ہونا شروع ہو گئی ہے کیونکہ امدادی سامان کی ترسیل کے لیے رفح سرحدی گذرگاہ کی بندش کا یہ تیسرا ہفتہ ہے اور فلسطینی انکلیو کے اندر لوگوں کو بھوک کی شدت کا سامنا ہے۔

اسرائیل نے 6 مئی کو سرحد پر غزہ کی جانب اپنے فوجی حملے میں تیزی پیدا کی اور فلسطینی جانب سے گذرگاہ کا کنٹرول سنبھال لیا جس سے قبل رفح انسانی امداد کے ساتھ ساتھ کچھ تجارتی سامان کی ترسیل کے لیے ایک اہم مقام تھا۔

مصری حکام اور ذرائع کہتے ہیں کہ انسانی بنیادوں پر کارروائیوں کو فوجی سرگرمیوں سے خطرہ لاحق ہے اور گذرگاہ کے دوبارہ کام شروع کرنے سے پہلے اسرائیل کو اسے فلسطینیوں کے حوالے کرنے کی ضرورت ہے۔

اسرائیل اور امریکہ نے مصر سے سرحد کو دوبارہ کھولنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے جو غزہ کے بے گھر فلسطینیوں کے خطرے سے بھی پریشان ہے۔

دریں اثناء گذرگاہ کے مصری جانب اور رفح سے 45 کلومیٹر (28 میل) مغرب میں واقع قصبے العریش کے درمیان سڑک پر امداد کا جمع شدہ سامان بڑھتا جا رہا ہے جو بین الاقوامی امدادی عطیات کے پہنچنے کا راستہ ہے۔

ایک ٹرک ڈرائیور محمود حسین نے بتایا کہ ان کا ایک ماہ سے گاڑی پر لدا ہوا سامان آہستہ آہستہ دھوپ میں خراب ہوتا جا رہا تھا۔

کچھ اشیائے خوردونوش ضائع کی جا رہی ہیں اور باقی سستی فروخت ہو رہی ہیں۔

سائے کے لیے اپنے ٹرک کے نیچے جھک کر بیٹھتے ہوئے انہوں نے کہا، "سیب، کیلے، چکن اور پنیر، بہت سی چیزیں بوسیدہ ہو چکی ہیں، کچھ چیزیں واپس آ گئی ہیں اور ایک چوتھائی قیمت پر فروخت ہو رہی ہیں۔"

نیز انہوں نے کہا، "مجھے یہ کہتے ہوئے افسوس ہو رہا ہے کہ ہم جو پیاز لے کر جا رہے ہیں وہ کیڑے پڑ جانے کی وجہ سے جانوروں کے کھانے کے قابل ہی رہ گیا ہے۔"

اسرائیل کی جانب سے علاقے میں جنگ شروع کرنے کے دو ہفتے بعد رفح کے راستے غزہ کے لیے امداد کی ترسیل اکتوبر کے آخر میں شروع ہوئی۔

امدادی حکام کہتے ہیں کہ غزہ کے اندر اسرائیلی معائنے اور فوجی سرگرمیوں کی وجہ سے امداد کی روانی اکثر سست رہی ہے اور انکلیو کے 2.3 ملین باشندوں تک پہنچنے والا حصہ ضروریات سے بہت کم رہا ہے۔

بھوک کے ایک عالمی نگران نے غزہ کے کچھ حصوں میں قریبی قحط سے خبردار کیا ہے۔

خراب شدہ انڈے

اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق 5 مئی کے بعد سے کوئی ٹرک رفح سے نہیں گذرے اور بہت کم قریبی اسرائیلی کراسنگ کریم شالوم سے گذرے ہیں۔

اس علاقے میں مصری ہلالِ احمر کے سربراہ خالد زاید نے کہا کہ مصر کے شمالی سینائی میں داخلے کی منتظر امداد بہت زیادہ تھی اور کچھ دو ماہ سے زیادہ عرصے سے پھنسے ہوئی تھی۔

انہوں نے کہا، "کچھ امدادی پیکٹوں کے لیے ایک مخصوص درجۂ حرارت کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔ اس پر ہم ایسے ماہرین سے رابطہ کرتے ہیں جو خوراک اور طبی سامان کو ذخیرہ کرنے کے لیے اعلیٰ تربیت یافتہ ہوں۔"

نیز انہوں نے کہا، "ہمیں امید ہے کہ سرحد جلد از جلد دوبارہ کھل جائے گی۔"

گروپ کے سپروائزر جنرل عبداللہ الربیعہ نے کہا، سعودی امداد سے چلنے والی خیراتی تنظیم کے ایس ریلیف کے پاس 350 سے زائد ٹرک ہیں جو خوراک اور طبی سامان سمیت اشیاء لے کر رفح سے گذرنے کے منتظر ہیں لیکن خرابی کے خطرے کی وجہ سے انہیں آٹا اتارنا پڑا۔

انہوں نے رائٹرز کو بتایا، "ہم پیک کرتے اور بھیجتے ہیں لیکن ہمیں دوبارہ چیک کرنا پڑتا ہے۔ یہ ایک بڑا بوجھ ہے۔"

مصر کی وزارتِ فراہمی کے مقامی عہدیداروں نے کہا کہ کچھ خوراک شمالی سینائی کے مقامی بازار میں کم قیمت پر فروخت کی گئی ہے جس کے نتیجے میں خراب شدہ انڈوں کا ذخیرہ ضبط کر لیا گیا۔

غزہ کے اندر تاخیر سے ترسیل شدہ کھانے کے معیار کے بارے میں بھی خوف پیدا ہوا ہے جو رفح کی بندش سے پہلے یا دیگر گذرگاہوں کے ذریعے پہنچا۔

غزہ کے سرکاری میڈیا آفس کے ڈائریکٹر اسماعیل الثابتہ نے کہا کہ فلسطینی طبی اور پولیس اہلکار جو غزہ میں آنے والے سامان کی جانچ کرتے تھے، اسرائیل کی جارحیت کے دوران ایسا کرنے سے قاصر رہے تھے۔

انہوں نے کہا، "یہ ایک بڑا مسئلہ ہے کیونکہ غزہ کی پٹی میں داخل ہونے والی کئی اشیاء انسانی استعمال کے لیے نامناسب اور غیر صحت بخش ہیں۔"

نیز انہوں نے کہا، "اس لیے وزارتِ صحت نے عوام میں شعور بیدار کرنے کے لیے انتباہی بیان جاری کیا کہ کھانے یا اپنے اہل خانہ کو دینے سے پہلے لوگوں کو اشیاء کی جانچ کر لینی چاہیے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں