ایران میں صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر حادثے میں انتقال کرنے کے واقعے کی باضابطہ تحقیقات کی ابتدائی رپورٹ جمعرات کو رات گئے سامنے لائی گئی ہے۔ یہ باضابطہ تحقیقات ایرانی فوج کی طرف سے کی گئی ہیں۔
ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صدر کے ہیلی کاپٹر کے ایک پہاڑ میں کریش ہونے کے فوراً ہی آگ کی لپیٹ میں آ گیا تھا۔ فوری طور پر اس حادثے کے حوالے سے کسی پر حملے کا الزام نہیں لگایا گیا ہے۔ تاہم ابھی ان فوجی تحقیقات کی مزید تفصیلات سامنے لانا باقی ہے۔
خیال رہے ہیلی کاپٹر کا حادثہ اتوار کے روز ہوا تھا۔ ہیلی کاپٹر پر صدر رئیسی کے علاوہ وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان سمیت ملک کے سات اعلی حکام جاں بحق ہو گئے تھے۔
ابتدائی طور پر جنرل سٹاف کے بیان میں کہا گیا تھا کہ ہیلی کاپٹر کے کا مواصلاتی رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔ ابھی تک اس حادثے کی تحقیقات میں کوئی مشتبہ یا پر اسرار چیز سامنے نہیں آئی ہے۔ جس سے اندازہ ہو کہ ہیلی کاپٹر کو کسی چیز سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
البتہ یہ معلوم ہوا ہے اس ہیلی کاپٹر کا مواصلاتی رابطہ اپنے آگے اور پیچھے والے دونوں ہیلی کاپٹروں کے ساتھ حادثے سے قبل 90 سیکنڈ تک رابطہ برقرار تھا۔
اب تک کی سامنے آنے والی تحقیقات سے متعلق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایسی کوئی چیز سامنے نہیں آئی ہے جس سے یہ اندازہ ہو کہ ہیلی کاپٹر کو کسی چیز سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
ہیلی کاپٹر اتوار کی رات حادثے کا شکار بنا اور بعد ازاں اگلےروز پیر کی صبح تصدیق ہو گئی کی ہیلی کاپٹر حادثے سے دوچار ہوا ہے اور کسی کی زندگی کے بچنے کا امکان نہیں ہے۔