ایک اسرائیلی فوجی کی جانب سے وزیر دفاع یوآو گیلنٹ اور چیف آف اسٹاف ہرزی ہیلیوی کے خلاف بغاوت کا اعلان کرنے اور وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ اپنی وفاداری کا اعلان کرنے کی ویڈیونے اسرائیل میں تشویش کی ایک نئی لہردوڑا دی ہے۔
"میں نے نافرمانی کے خطرات سے خبردار کیا تھا۔"
نیتن یاہو نے کہا کہ "میں نے کئی بار فوج میں نافرمانی کے خطرات کے بارے میں خبردار کیا ہے اور میں کسی بھی فریق کی طرف سے کسی بھی قسم کی نافرمانی کو واضح طور پر مسترد کرتا ہوں۔ میں توقع کرتا ہوں کہ تمام حکومتیں بغاوت کے ساتھ اسی طرح کا سلوک کریں گی"۔
"عليكما الاستقالة".. فيديو متداول لجندي إسرائيلي متواجد بـ #غزة يعلن تمرده على وزير الدفاع يوآف غالانت ورئيس أركان الجيش هيرتسي هاليفي ودعمه المطلق لـ #نتنياهو#إسرائيل#الحدث pic.twitter.com/YFub0H0Wvz
— ا لـحـدث (@AlHadath) May 25, 2024
"سپاہی کا اعلان بغاوت‘‘
ایک نقاب پوش اسرائیلی فوجی کا اسرائیلی آرمی چیف آف اسٹاف اور اسرائیلی وزیر دفاع کے خلاف بغاوت کے مطالبے کا کلپ وائرل ہو رہا ہے۔
فوجی نے ٹیلی گرام پر پوسٹ کی گئی ویڈیو میں کہا کہ "ہم صرف وزیر اعظم کی بات سنیں گے، جب کہ اسرائیلی فوج اور وزارت دفاع کے ترجمان نے واقعے کی تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا۔
"یہ ویڈیو آپ کے لیے ہے"
فوج نے ویڈیو میں اعلان کیاکہ "وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو یہ ویڈیو آپ کے لیے ہے۔ ہم، ریزروسٹ غزہ میں کسی فلسطینی اتھارٹی کو چابیاں دینے کو تیار نہیں‘‘۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایک لاکھ ریزرو فوجی آخری دم تک لڑنے کے لیے تیار ہیں۔ غزہ کی پٹی کو حماس، فلسطینی اتھارٹی یا حتیٰ کہ کسی دوسری عرب قیادت کے حوالے کرنے کو قبول نہیں کرتے۔
وزیر اعظم کے بیٹے یائر نیتن یاہو نے اپنے ذاتی اکاؤنٹ پر ویڈیو کو دوبارہ پوسٹ کیا۔
7 اکتوبر کو غزہ کی پٹی میں اسرائیلی بستیوں اور فوجی اڈوں پر حماس کی جانب سے کیے گئے اچانک حملے کے بعد نیتن یاہو کو اندرون اور بیرون ملک شدید تنقید کا سامنا ہے۔