امریکہ سعودی عرب کو جارحانہ ہتھیاروں کی فروخت پر لگائی پابندی اٹھانے کو تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکہ اگلے چند ہفتوں میں سعودی عرب کے خلاف عائد کردہ اس پابندی کو ختم کرنے پر تیار ہو گیا ہے ، جس کے تحت اس نے سعودی عرب کے لیے جارحانہ ہتھیاروں کی فروخت کو روک دیا تھا۔ یہ پابندی امریکہ نے کئی سال تک جاری رکھنے کے بعد اب اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

'العربیہ ' کو اس معاملے سے آگاہ ذرائع نے یہ بات اتوار کے روز بتائی ہے۔ تاہم اس بارے میں اس کے سوا کوئی تفصیل نہیں دی ہے کہ اس پابندی کے اٹھنے سے کئی قسم کے ہتھیاروں کی سعودی عرب کو فراہمی ممکن ہو جائے گی۔

واضح رہے اسلحے اور ٹیکنالوجی کی مارکیٹ میں امریکہ ای کایسا بیوپاری ہے جو اپنا مال بیچ کر صرف پیسہ نہیں بناتا بلکہ مال بیچتے ہوئے خریداروں سے کئی اور شرائط منوانے کی کوشش بھی کرتا ہے۔ یہ بیوپاری دام بھی لیتا ہے اور کام بھی لیتا ہے۔ اپنے گاہکوں کو سودا مہنگا کر کے بیچنے کے باوجود کئی طرح سے زیر بار بھی رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ ایک ایسا تند خو بیوپاری جو جب چاہے اور جب ضرورت محسوس کرے لہجہ خوشگوار اور متاثر کن بنا لے اور جب چاہے منہ بنا کر سیدھا انکار کر دے کہ جاؤ میں تمہیں نہیں بیچتا۔

'العربیہ ' امریکہ کی طرف سے سعودی عرب کے ساتھ اس پیش رفت کے بارے میں امریکی دفتر خارجہ سے تبصرہ چاہا تو دفتر خارجہ کے حکام نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ اسی طرح وائٹ ہاؤس نے بھی اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

اس سے قبل امریکی صدر جوبائیڈن نے جب امریکی صدارت سنبھالی تو انہوں نے خلیجی ممالک کے خلاف سخت لہجہ اور انداز اختیار کیا تھا۔ اسے جوبائیڈن انتظامیہ کی خارجہ پالیسی میں ایک اہم اقدام کے طور پر شامل کیا گیا تھا۔

صدر جوبائیڈن نے ایرانی حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کو پہلے سے دہشت گرد قرار دیے جانے کا فیصلہ بھی واپس لے لیا تھا۔ اگرچہ عرب ملکوں نے اس فیصلے کی مخالفت کی تھی اور سعودی عرب کو جارحانہ ہتھیاروں کی فروخت روک دی تھی۔

سعودی عرب نے بھی اس صورت حال میں خطے میں اپنے فیصلے کے تحت مذاکراتی عمل شروع کرنے میں سہولت پیدا کی ۔ حتیٰ کہ حوثیوں کے ساتھ بھی براہ راست رابطے میں آگیا۔ جو اس سے قبل سعودی عرب میں راکٹ داغ رہے تھے۔

تاہم اب امریکہ نے ایک جانب دوبارہ حوثیوں کو اسی فہرست میں شامل کر دیا ہے اور دوسری جانب سعودی عرب کو جارحانہ ہتھیاروں کی فروخت روکنے کی اپنی پالیسی کو واپس لینے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔

یہ خبر ساب سے پہلے فنانشل ٹائمز نے دی تھی۔ جوبائیڈن انتظامیہ سعودی عرب کو جارحانہ اسلحے کی فروخت روکے رکھنے کا فیصلہ واپس لے رہی ہے۔'

خطے میں امریکہ کو جس نئی صورت حال کا سامنا ہے اور امریکی صدر کو جس قسم کی انتخابی مہم کا امریکہ میں سامنا ہے اس کے پیش نظر بڑی تبدیلیاں ہو رہی ہیں۔

امریکہ یمنی حوثیوں کے خلاف علاقائی سطح پر ایک اتحاد چاہتا ہے جو یمن کے پڑوسی ملکوں کا ہو جس کا مقصد یمنی حوثیوں کے حملے روکنے میں کردار ادا کرنا ہو اور امریکہ کے ساتھ ساتھ اسرائیل کو ریلیف دینا ہو۔

اس وقت صورت حال یہ ہے کہ بہت سارے عرب ملکوں نے امریکہ کی حوثیوں کے خلاف حملوں میں امریکہ کو وہ سہولت دینے سے گریز برتا ہے جو امریکہ چاہتا ہے۔ امریکہ اس میں بہتری چاہتا ہے ۔ جیسا کہ بحرین نے سہولت دی ہے۔ امریکہ کو عرب ملکوں کی علاقائی سطح پر زیادہ ضرورت پیش ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں