رفح آپریشن درست انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پرکیا جا رہا ہے: اسرائیلی فوج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عالمی دباؤ کے باوجود اسرائیل نے غزہ کے انتہائی جنوبی شہر اور بے گھر لوگوں کے گڑھ رفح میں فوجی آپریشن جاری رکھا ہوا ہے۔اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ رفح میں حماس کے چار بریگیڈ موجود ہیں، جنہیں ختم کرنے کے لیے آپریشن جاری ہے۔ اسرائیلی فوج نے مصر اور غزہ کے درمیان ’فلاڈیلفیا ایکسس‘ پر مکمل طور پر اپنا کنٹرول حاصل کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔

اسرائیلی فوج نے رفح میں جاری فوجی آپریشن کو مزید وسعت دینے کا عہد کیا۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ یہ کارروائی رفح میں ہو رہی ہے کیونکہ حماس وہاں موجود ہے اور اس نے متعدد اسرائیلیوں کو اسی علاقے میں یرغمال بنا رکھا ہے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان نے کہا کہ فوج بین الاقوامی اور علاقائی اعتراضات کے باوجود رفح میں موجودہ آپریشن جاری رکھنے کا عہد کرتے ہوئے غزہ کی پٹی اور مصر کے درمیان سرحدی محور فلاڈیلفیا کا فوجی کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔

ترجمان ڈینیئل ہاگاری نے مزید کہا کہ اسرائیلی فوج نے 7 مئی کو رفح میں جو آپریشن شروع کیا تھا۔ وہ اس لیے ہو رہا ہے کیونکہ فلسطینی تنظیم حماس جو تقریباً آٹھ ماہ سے اسرائیل کے خلاف جنگ کر رہی ہے وہاں موجود ہے۔

ترجمان نے کہا کہ "حماس رفح میں موجود ہے۔ اس نے رفح میں قیدیوں کو رکھا ہوا ہے۔ اسرائیل جب تک قیدیوں کو آزاد نہیں کرا دیتا رفح میں لڑائی بند نہیں کرے گا۔

امریکی انتظامیہ اور یورپی ممالک کے اعتراضات اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں بڑی تعداد میں شہریوں کی اموات کے باوجود اسرائیلی فوج نے رفح میں فوجی کارروائی کو وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

ہاگاری نے کہا کہ رفح میں آپریشن "درست انٹیلی جنس معلومات کے مطابق کیا جا رہا ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہم گائیڈڈ گولہ بارود استعمال کر رہے ہیں۔ ہم رفح میں حماس کو ختم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں"۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان نے حماس پر فلاڈیلفیا کے محور کو دہشت گردی کے گڑھ میں تبدیل کرنے کا الزام لگایا۔

انہوں نے کہا کہ ان کی فورسز کو مصر کی سرحد کے قریب درجنوں راکٹ لانچنگ پیڈ ملے جو اسرائیل کی طرف راکٹ فائر کرنے کےلیے استعمال کیے جاتے تھے۔ تاہم اسرائیلی فوجی ترجمان کے اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی۔

اسرائیلی فوجی ترجمان نے دعویٰ کہا کیا کہ فوج نے رفح میں حماس کے تقریباً 300 عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا ہے۔

حماس حکومت کی وزارت صحت نے بدھ کے روز بتایا تھا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ میں اسرائیلی حملوں میں 75 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 36,171 ہو گئی ہے، جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں