تمام فریق جوبائیڈن کی جنگ بندی تجاویزپرمثبت انداز اختیار کریں گے:قطری وزیراعظم پرامید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل و حماس کے درمیان جنگ بندی کے لیے مذاکراتی عمل کا شروع سے حصہ رہنے والے قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے کہا ہے کہ توقع ہے کہ تمام فریق صدر جوبائیڈن کی طرف سے غزہ میں جنگ بندی کے لیے سامنے آنے والی تجاویز کو مثبت انداز سے لیں گے اور جنگ بندی کی طرف بڑھیں گے۔

وہ ہفتے کے روز جوبائیڈن کی ان تجاویز پر بات کر رہے تھے جو امریکی صدر نے جمعہ کے روز تقریبا آٹھ ماہ پر محیط ہو چکی اس غزہ جنگ کے بارے میں دی ہیں۔ وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی گزشتہ روز امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کے ساتھ گفتگو کر رہے تھے۔ جسے بعد ازاں قطر کے خبر رساں ادارے نے رپورٹ کیا ہے۔

انہوں نے کہا 'جنگ بندی کی نئی تجویز میں اسرائیلی فوج کا غزہ سے انخلا جنگ بندی کے اصولوں میں شامل کیا گیا ہے کہ تمام گنجان آباد علاقوں سے اسرائیلی فوج نکل جائے گی۔

اس دوران بشمول خواتین کے تمام قیدیوں کو رہائی دی جائے گی۔ نیز بوڑھوں اور زخمیوں کو رہا کیا جائے گا۔ بدلے میں سینکڑوں فلسطینی قیدی جیلوں سے رہا کیے جائیں گے اور غزہ میں امدادی اشیاء کے داخلے میں رکاوٹوں کو ختم کیا جا ئے گا۔

واضح رہے قطر اور مصر دونوں ایسے ملک ہیں جو کئی مہینوں سے جنگ بندی کے لیے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے کوشاں ہیں۔ مصری وزیر خارجہ سامح شکری نے بھی ہفتے کے روز اسی امر کا اظہار کیا ہے کہ ان کا ملک غزہ میں جنگ بندی کے لیے کوششوں کی حمایت کرے گا۔

وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی قطر کی وزارت خارجہ کا قلمدان اپنے پاس رکھتے ہیں۔ انہوں نے ماہ اپریل میں کہا تھا 'بطور ثالث کے قطر اپنے کردار کو نئے سرے سے دیکھے گا۔ قطر کو امریکہ و اسرائیل کے اندر اس وجہ سے بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے کہ حماس کے ساتھ قطر کے تعلقات موجود ہیں۔ اس لیے قطر پر یہ دباؤ ڈالنے کی کوشش بھی کی گئی ہے کہ اس کے دارالحکومت دوحہ سے حماس کا دفتر ختم کر دیا جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں