شرائط پر پورا نہ اترنے والے معاہدے کو قبول نہیں کریں گے:حماس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطینی تنظیم حماس نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کےحوالے سے اس کی کچھ شرائط ہیں۔ حماس ایسا کوئی معاہدہ صرف اسی صورت میں قبول کرےگی جب اس کی پیش کردہ شرائط اور مطالبات کو تسلیم کیا جائے گا۔ اگرہماری شرائط پوری نہ ہوئیں تواسرائیل کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں گا۔

بیروت میں حماس تحریک کے میڈیا اہلکار ولید الکیلانی نے العربیہ/الحدث کو بتایا کہ "ہمارے بنیادی مطالبات میں اسرائیل کا غزہ سے انخلاء اور بے گھر افراد کی گھروں واپسی ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "کوئی بھی معاہدہ جو ہماری شرائط پر پورا نہ اترے اس قبول نہیں کریں گے‘‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم امریکی صدر جو بائیڈن کی تجویز کومثبت طورپر دیکھتے ہیں۔

الکیلانی نے کہا کہ اسرائیل جنگ بندی کے معاہدے کو مسترد کرتا ہے اور گیند اس کے کورٹ میں ہے۔ اسرائیل جنگ جاری رکھ کر قیدیوں کی رہائی کے مذاکرات کیسے آگے بڑھا سکتا ہے۔

تین مراحل پر مشتمل معاہدے کی تجویز

گذشتہ جمعے کو امریکی صدر جو بائیڈن نے غزہ کی پٹی میں جنگ کے خاتمے کے لیے تین مرحلوں پر مشتمل منصوبے کا اعلان کیا تھا۔

امریکی صدر کے مجوزہ جنگ بندی منصوبے میں مرحلہ وار اسرائیلی فوج کے غزہ سے انخلاء اور قیدیوں کے تبادلے کی تجاویزپیش کی گئیں تھیں۔

امریکی صدر بائیڈن نے گذشتہ جمعہ کو اعلان کیا تھا کہ اسرائیل نے ایک نئی جامع تجویز پیش کی ہے جس میں غزہ میں مستقل جنگ بندی اور تمام قیدیوں کی رہائی کے لیے روڈ میپ شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ روڈ میپ تین مراحل پرمشتمل ہوگا۔

پہلے مرحلے میں سینکڑوں فلسطینیوں کے بدلے تقریباً 33 قیدیوں کی رہائی کی تجویز دی گی ہے۔ان میں خواتین اور زخمی بھی شامل ہیں۔

جبکہ دوسرے مرحلے میں فوجیوں سمیت تمام اسرائیلی قیدیوں کی رہائی، بے گھر فلسطینیوں کی اپنے گھروں کوں واپسی کے ساتھ ساتھ ان علاقوں سے اسرائیلی افواج کا انخلاء بھی شامل ہے۔

تیسرے اور آخری مرحلے میں عداوت اور جنگ کے مکمل خاتمے اور غزہ کی تعمیر نو کے عمل کے تجویز دی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں