اسرائیلی یرغمالیوں کے معاملہ پر اسرائیلی حکومت اور عوام میں گہری تقسیم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

آٹھ ماہ سے آج تک غزہ کی پٹی میں حماس کے زیر حراست اسرائیلی قیدیوں کی فائل مذاکرات کی فائل میں سب سے پیچیدہ مخمصہ بنی ہوئی ہے۔ مزید چار یرغمالیوں کی ہلاکت کے بعد کسی سمجھوتے پر پہنچنا ایک انتہائی ضروری معاملہ بن گیا ہے۔ اس سے اسرائیلی گلی کوچوں میں تقسیم مزید گہری ہو گئی ہے۔

عوام کا موقف

قیدیوں کے اہل خانہ ان کی بحفاظت واپسی کی اپیل کر رہے اور اس کے لیے حکومت پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ تاہم حکومت کی ایک او ر رائے ہے اور وہ غزہ کی پٹی میں جنگ کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت کا دعویٰ کر رہی ہے۔ اسرائیلی اخبار ہارٹز کے ایک تجزیے کے مطابق یکے بعد دیگرے رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوا کہ قیدیوں کی بازیابی کی ترجیح پر شہریوں اور حکومت کے درمیان شدید تقسیم ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ اسرائیلی عوام کی اکثریت قیدیوں کی واپسی کی شدید خواہش رکھتی ہے اور اس معاملہ کو ایک اولین ترجیح کے طور پر رکھتی ہے اور یہ نظریہ وقت کے ساتھ ساتھ مزید پختہ ہوتا جا رہا ہے۔ تل ابیب میں گزشتہ ہفتے ہزاروں اسرائیلیوں نے مظاہرہ کیا اور امریکی جنگ بندی کی تجویز کو قبول کرنے اور قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ بہت سے لوگوں کو خدشہ تھا کہ وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو اس تجویز کو بھی ترک کر دیں گے۔

مظاہرین نے مرکزی چوک میں اسرائیلی اور امریکی جھنڈے بھی اٹھا رکھے تھے، اس چوک کو انہوں نے یرغمالی چوک کا نام دے رکھا ہے۔ مظاہرین مع بینرز پر لکھا تھا "انہیں گھر بھیج دو!"

حکومت کا موقف

جہاں تک حکومت کا تعلق ہے نیتن یاہو نے ہفتے کے روز اس بات کی تصدیق کی کہ اس نے کسی بھی مستقل جنگ بندی سے پہلے حماس کا خاتمہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ یہ شرط بائیڈن کی طرف سے اعلان کردہ اسرائیل کی تجویز میں شامل ہے۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے اسرائیل کی شرائط میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ وہ حماس کی فوجی اور حکومتی صلاحیتوں کو ختم کرنے، تمام یرغمالیوں کو آزاد کرنے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہیں کہ غزہ اب اسرائیل کے لیے خطرہ نہیں ہے پر قائم ہیں۔

دوسری طرف نیتن یاہو کو سات اکتوبر کو حماس کے حملوں کے ایک ہفتے سے بھی کم عرصے کے بعد قائم کردہ اتحاد حکومت کے اندر بڑے چیلنجز کا سامنا ہے کیونکہ انہیں اتحادیوں اور مخالفین کے اعتراضات کا سامنا ہے۔ جہاں انتہائی دائیں بازو کے وزراء نے نیتن یاھو کے اس معاہدے پر راضی ہونے کی صورت میں حکومت سے دستبردار ہونے کی دھمکی دے رکھی ہے۔ انتہائی مذہبی اسرائیلی جماعتوں نے یہ دھمکی بھی دی کہ وہ چند دنوں میں جاری ہونے والے عدالتی فیصلوں کے پس منظر کے خلاف اتحاد سے اپنی حمایت واپس لے لیں گے جو الٹرا آرتھوڈوکس یہودی نوجوانوں "حریدیوں" کو طویل عرصے تک فوجی خدمات سے استثنیٰ کو منسوخ کر سکتے ہیں۔

نیتن یاہو کی لیکود پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ پر اسرائیلی قبضے سے غیر معینہ مدت تک بچنے کے لیے عوامی سطح پر عہد کریں۔ بدلے میں امریکی اخبار "واشنگٹن پوسٹ" کا خیال ہے کہ سب سے فوری چیلنج بینی گانٹز کی طرف سے آیا ہے۔ بینی گانٹز نیتن یاہو اور گیلنٹ کے ساتھ ان تین ارکان میں سے ایک ہیں جنہیں جنگی حکومت میں ووٹ دینے کا حق حاصل ہے۔ اسرائیل میں جنگی حکومت میں پانچ ارکان شامل ہیں جن میں سب سے نمایاں نیتن یاہو، گانٹز، گیلنٹ اور گاڈی آئزن کوٹ ہیں۔

جہاں تک اسرائیلی اپوزیشن کے رہنما یائر لاپیڈ کا تعلق ہے انہوں نے نیتن یاہو کے لیے ایک "حفاظتی جال" فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا اگر انتہائی دائیں بازو کے ارکان حکومتی اتحاد سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہیں اور اس طرح حکومت کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں