سعودی عرب: فلپائنی سیامی جڑواں بچوں اکیزا اور عائشہ کو الگ کرنے کا آپریشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں فلپائن کے سیامی جڑواں بچیوں کو علیحدہ کرنے کا آپریشن کیا گیا ہے۔ آپریشن کے لیے میڈیکل اور سرجیکل ٹیم کی سربراہی شاہ سلمان سینٹر برائے ریلیف اینڈ ہیومینٹیرین ایڈ کے جنرل سپروائزر اور ٹیم لیڈر ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ کر رہے تھے۔

ڈاکٹر عبد اللہ نے ریاض میں وزارت برائے نیشنل گارڈ کے کنگ عبداللہ سپیشلسٹ ہسپتال برائے چلڈرن میں فلپائنی سیامی جڑواں بچوں اکیز اور عائشہ یوسف کو الگ کرنے کا آپریشن کیا۔ یہ آپریشن خادم حرمین شریفین شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی خصوصی توجہ کے بعد دی جانے والی ہدایات پر کیا گیا۔

ڈاکٹر الربیعہ نے سعودی نیوز ایجنسی (ایس پی اے) کو ایک پریس بیان میں واضح کیا کہ فلپائنی جڑواں بچے اکیزا اور عائشہ، جن کی عمریں 6 ماہ ہیں اور ان کا وزن 18 کلو گرام ہے، 5 مئی 2024 کو سعودی عرب پہنچی تھیں۔ انہیں نیشنل گارڈ کی وزارت کے کنگ عبداللہ سپیشلسٹ ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔

سیامی بچوں کی والدہ۔
سیامی بچوں کی والدہ۔

معلوم ہوا کہ ان کے سینے، پیٹ اور جگر کا ایک حصہ اور ان میں سے ہر ایک کی آنتیں آپس میں تقسیم ہیں۔ مکمل طور پر اوپری اور نچلے اعضاء کو الگ کرنے کے امکان کی تصدیق کے لیے ایک سے زیادہ اور درست معائنے کیے گئے۔

آپریشن کا ایک منظر۔
آپریشن کا ایک منظر۔

کئی میٹنگوں کے بعد طبی ٹیم نے 5 میں ساڑھے 7 گھنٹے لگنے والے سرجیکل آپریشن کے ذریعے جڑواں بچیوں کو الگ کرنے کا فیصلہ کیا۔ آپریشن کی کامیابی کا امکان 70 فیصد سےزیادہ تھا۔ آپریشن میں 23 کنسلٹنٹ ڈاکٹرز، ماہرین، نرسنگ اور تکنیکی عملہ اور دیگر معاونین نے حصہ لیا۔

آپریشن کرنے والی میڈیکل ٹیم
آپریشن کرنے والی میڈیکل ٹیم

میڈیکل اور سرجیکل ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ نے تصدیق کی کہ یہ آپریشن فلپائن سے سیامی یعنی دھڑ جڑے ہوئے جڑواں بچوں کا دوسرا آپریشن ہے۔ مملکت سعودی عرب میں دھڑ جڑے بچوں کو الگ کرنے کے سلسلے میں یہ 61 واں آپریشن ہے۔ سعودی عرب کی طبی ٹیم نے گزشتہ 33 سالوں کے دوران دنیا کے 26 ممالک سے 136 کیسز کا جائزہ لیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں