حماس کی قید میں دسیوں یرغمالیوں کے اب بھی زندہ ہونے کا اسرائیلی مذاکرات کاروں کو یقین ہے۔ یہ بات پیر کے روز اسرائیل کے ایک سینیئر مذاکرات کار نے 'اے ایف پی' سے بات چیت کے دوران کہی ہے۔ مذاکرات کار نے دو ٹوک کہا ہم تمام یرغمالیوں کی رہائی سے قبل جنگ بندی نہیں کر سکتے۔
اسرائیلی مذاکرات کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ' یقین ہے کہ حماس کے پاس اب بھی دسیوں یرغمالی زندہ حالت میں قید ہیں۔ لیکن زیادہ دیر تک اس حال میں نہیں رہنے دے سکتے ۔'
اسرائیل کے مطابق سات اکتوبر سے اس کے 251 اسرائیلیوں کو حماس نے یرغمال بنایا تھا، جن میں سے 116 ابھی بھی قید ہیں البتہ 41 یرغمالیوں کے بارے میں اسرائیلی فوج کہتی ہے کہ یہ قید کے دوران ہلاک ہو چکے ہیں۔
امریکی صدر جوبائیڈن نے پچھلے ماہ تین مرحلوں پر مشتمل جنگ بندی منصوبہ پیش کیا جس میں یرغمالیوں کی رہائی اور جنگ بندی مراحل میں ممکن ہو گی۔ نیز اسرائیلی فوج غزہ کے تمام آبادی والے علاقوں سے نکل جائے گی۔
اسرائیلی ذمہ دار نے کہا 'ہم اس لیے یرغمالیوں کی رہائی سے پہلے جنگ بندی نہیں کر سکتے۔ کیونکہ عسکریت پسند دس سال یا اس سے زیادہ عرصے تک کے لیے بھی مذاکرات کو لمبا کر سکتے ہیں۔'
اسرائیلی ذمہ دار نے مزید کہا 'معاہدے پر دستخط ہونے سے پہلے جنگ بندی نہی کر سکتے ہیں۔ ہم جوبائیڈن پلان پر حماس کے مثبت جواب کا انتظار کر رہے ہیں۔'
اسرائیلی ذمہ دار کے مطابق اسرائیل کی مذاکراتی ٹیم نے جو بائیڈن پلان کو گرین سگنل دے دیا ہے۔ خیال رہے اسرائیل نے ابھی تک عوامی سطح سے جوبائیڈن پلان کی منظوری نہیں دی ہے۔