اسرائیل کو اپنی بقا کی جنگ لڑنے کے لیے امریکی گولہ بارود کی ضرورت ہے: نیتن یاہو
نیتن یاہو کا امریکہ پر "ہتھیاروں کی فراہمی روکنے" کا الزام، امریکہ پریشان
اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو نے وائٹ ہاؤس کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے جمعرات کو کہا کہ ان کے ملک کو "اپنی بقا کی جنگ" لڑنے کے لیے امریکہ سے گولہ بارود کی ضرورت ہے۔ غزہ جنگ کے لیے اسلحے کی فراہمی کے بارے میں شکایت کرنے پر وائٹ ہاؤس نے نیتن یاہو پر تنقید کی تھی۔
نیتن یاہو نے ایک بیان میں کہا، "میں ذاتی حملوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوں بشرطیکہ اسرائیل کو امریکہ سے وہ گولہ بارود مل جائے جو اسے اپنی بقا کی جنگ لڑنے کے لیے درکار ہے۔"
اسرائیلی رہنما کے تبصرے اس ہفتے واشنگٹن کو ناراض کرنے کے بعد سامنے آئے ہیں جب ایک ویڈیو بیان میں انہوں نے امریکہ پر "اسرائیل کو ہتھیار اور گولہ بارود روکنے" کا الزام لگایا گیا تھا۔
امریکی حکام نے کہا ہے کہ وہ اس بات سے واقف نہیں تھے کہ نیتن یاہو کس بات کا حوالہ دے رہے تھے۔
قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے جمعرات کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، "ہم نے اسرائیل کی جس قدر حمایت کی ہے اور کرتے رہیں گے، اس لحاظ سے یہ تبصرے انتہائی مایوس کن اور یقینی طور پر ہمارے لیے پریشان کن تھے۔"
واشنگٹن نے کہا، 2,000 پاؤنڈ وزنی بموں کی صرف ایک کھیپ بھیجنے کا معاملہ ان خدشات کے باعث زیرِ غور ہے کہ یہ غزہ کے گنجان آباد علاقوں میں استعمال ہوں گے۔
کربی نے علیحدہ طور پر کہا کہ امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان جمعرات کو اپنے اسرائیلی ہم منصب زاچی ہنیگبی اور تزویراتی امور کے وزیر رون ڈرمر سے ملاقات کرنے والے تھے۔
واشنگٹن اسرائیل کا اہم ترین فوجی حمایتی ہے لیکن وائٹ ہاؤس نے غزہ میں شہری ہلاکتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر مایوسی کا اظہار کیا ہے جہاں اسرائیل آٹھ ماہ سے زیادہ عرصے سے حماس کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔