اردنی حاجیوں کی ہلاکتیں،غلط طریقہ کارسےحج پر جانے اور لے جانے والوں کی گرفتاریاں شروع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اردنی عازمین حج کے فریضہ حج کی ادائیگی کے دوران ہلاکتوں کا ایشو عوام کی گفتگووں کا موضوع بنا ہوا ہے۔ جبکہ اردن کے حکام ان عناصر کی گرفتاریوں کی کوشش میں ہیں کہ جو افراد حج پر سعودی عرب جانے کے طے شدہ طرہقہ کار کے خلاف پہنچے یا دوسروں کو لے کر گئے تھے۔ اس طرح بالآخر اردن کے کئی افراد کی دوران حج موت کا ذریعہ بن گیا۔ ان کے علاوہ بھی کئی دوسرے حجاج کے لیے موت کا سبب بن گیا۔

یہ بات اردنی حکومت کے ترجمان مھند مبیضیں نے جمعہ کے روز بتائی ہے۔ ترجمان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ' لاپتہ ہو جانے والے افراد کو بڑی کوششوں سے تلاش کیا جا سکا۔ سعودی عب میں اردن کے قونصل خانے کی مدد سے ممکن ہوا اور اردن کے سرکاری حج حکام کے وفد کی وجہ سے ۔ دریں اثنا عمان میں وزارت خارجہ کے قائم کردہ آپریشن سنٹر نے اس سلسلے میں کام کیا۔

ترجمان کے مطابق ان تحقیقات کے دوران۔معلوم ہوا ہے کہ بعض افسران کو دھوکہ دیا گیا تھا۔ اب یہ کوششیں منطقی نتیجہ اخذ کرنے تک پہنچنے میں مدد کریں گی۔ یہ سارا معاملہ کیسے ہوا اور اس کے پیچھے کوں لوگ تھے۔

اب تک کی تحقیقات میں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بعض شہریوں نے مختلف دفاتر کو دھوکہ دیا تھا اور ان سے جھوٹ بولا تھا۔ان افراد کے سیکیورٹی حکام نے گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دیے ییں۔ ان میں سے کئی پہلے ہی گرفتار کر لیے گئے ہیں اور زیر تفتیش ہیں۔

اس دوران یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سعودی حکام۔نے اردنی حاجیوں کی لاشوں کو غسل دینے ، ان کی نماز جنازہ ادا کرنے اور تدفین کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔

سعودی عرب میں اردن کے قونصل خانے نے بتایا ہے کہ 107 لاپتہ حاجیوں میں سے 91 کا پتہ چلا لہا گیا ہے۔ جبکہ باقیوں کا پتہ چلانے کی کوشش جاری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں