اسرائیلی فوج نے غزہ اور رفح میں جاری اپنی جنگ میں جمعہ کے روز مزید شدت پیدا کرتے ہوئے بمباری میں اضافہ کیا ہے۔ بمباری میں شدت کا یہ سلسلہ غزہ اور رفح دونوں اطراف میں دیکھا گیا ہے۔ جبکہ زمینی فوج کے علاوہ اسرائیلی فضائیہ اور بحری فوج نے بھی اس بمباری میں شدت لانے میں اپنا اپنا کردار ادا کیا ہے۔ پچھلے چند ہفتوں سے اسرائیلی بحریہ کا کردار بھی نمایاں ہو کر سامنے آنے لگا ہے۔
رفح سے مقامی لوگوں اور اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ رفح میں اسرائیل حماس کے عسکری ونگ کے ساتھ لڑائی کی حالت میں ہے۔ اسرائیل نے اس دوران رفح پر سخت بمباری کی ہے۔
رفح کے رہائشیوں کے مطابق اسرائیلی فوج پورے رفح پر قبضے کی کوشش میں ہے۔ اس مکمل قبضے کے بعد اسرائیل کا کنٹرول براہ راست مصری سرحد تک پھیل جائے گا۔ نیز امداد کے لیے استعمال ہونے والی راہداری بھی مکمل طور پر اسرائیلی فوج کے پاس رہنے کا امکان ہوگا۔ اسرائیلی فوج نے ایک لمبی تیاری کے بعد سات مئی کو رفح پر زمینی حملے کا اغاز کیا تھا۔
اسرائیلی فوج کے ٹینک جنہوں نے مشرقی حصے کے علاوہ جنوبی اور وسطی علاقے پر پہلے سے کنٹرول حاصل کر لیا ہے، اب مغربی اور شمالی غزہ کی طرف بڑھنے کی کوشش میں ہیں۔
اسرائیلی فورسز جن میں تینوں شعبوں کی فوج شامل ہے وہ پورا زور لگا رہی ہیں کہ رفح کے لوگوں کو رفح خالی کرنے پر اسی طرح مجبور کر دیں جس طرح کے غزہ سے بے گھر کر کے نقل مکانی پر مجبور کیا تھا۔ کہ فوجی قبضے کے لیے آبادی کا انخلا ضروری ہے۔ لیکن رفح کی پوزیشن غزہ سے بھی گنجان آباد ہونے کے حوالے سے ان دنوں زیادہ سنگین ہے کہ اس میں غزہ کے لاکھوں فلسطینی بھی پناہ لیے ہوئے ہیں۔ ان میں سے بہت بری تعداد دوبارہ نقل مکانی کر چکی ہے۔ تاہم اب بھی بہت بڑی تعدا رفح میں موجود ہے۔
فلسطینی وزارت صحت کے مطابق جمعہ کے روز کم از کم 12 افراد اسرائیلی بمباری سے ہلاک ہوئے ہیں۔ لیکن یہ بمباری رفح پر کی بمباری کے علاوہ ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے جمعہ کے روز جاری کیے گئے بیان میں کہا ہے کہ اس نے 'متعین اورانٹیلی جنس بیسڈ بمباری کی ہے۔ 'خیال رہے اسرائیلی فوج کا یہ بیان معمول کا اور گھڑا گھڑایا بیان ہے وہ ان حملوں کو بھی متعین اور انٹیلی جنس بیسڈ ہی قرار دیتی رہی ہے جس میں اس کے اپنے ہی اسرائیلی یرغمالی اس کی بمباری اور فائرنگ سے ہلاک ہوتے رہے ہیں۔
تاہم اسرائیلی فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ بمباری ان حصوں میں کی گئی ہے جہاں اسرائیلی فوج عسکریت پسندوں کے ساتھ لڑائی جاری ہے اور عسکریت پسندوں کی سرنگیں موجود ہیں۔
رفح کے بعض رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کی بمباری پچھلے دو دنوں سے زیادہ شدت پک کی گئی ہے۔ فائرنگ اور گولہ باری کے علاوہ بمباری سے ہونے والے دھماکے بھی تقریباً مسلسل سنائی دے رہے ہیں۔
عینی شاہدوں اور مقامی لوگوں کے مطابق گذشتہ رات مغربی رفح میں ڈرون حملوں ، بمباری اور ٹینکوں کے علاوہ اسرائیلی بحریہ کی طرف سے بھی حملے کیے جارہے ہیں۔ 45 سالہ حاتم نے کہا 'لگتا ہے کہ اسرائیل مکمل قبضے کی کوشش میں ہے۔ لیکن مزاحمتی کرنے والوں کی طرف سے اسرائیل کو کافی جوابی حملوں کا سامنا ہے۔'
ساڑھے آٹھ ماہ کی جنگ ہو چکنے کے بعد اب اسرائیلی فوج غزہ کے جنوبی کنارے، رفح اور دیر البلاح کے ارد گرد کے علاوہ دیر البلاح کے وسط میں اپنے حملوں کو فوکس کیے ہوئے ہے۔
جمعہ کے روز رفح کے میئر احمد الصوفی کے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پورے رفح شہر کو اسرائیلی فوج نے اپنے حملے کی زد پر لیا ہوا ہے۔ یہ بیان حماس نے جمعہ کے روز جاری کیا ہے۔
میئر احمد الصوفی کے بیان کے مطابق پورا شہر اس وقت تباہی کا سامنا کر رہا ہے۔ لوگ خیموں کے اندر بمباری سے مر رہے ہیں۔ فلسطینی اور اقوام متحدہ کے دیے گئے اعدادو شمار سے ظاہرہوتا ہے کہ صرف ایک لاکھ لوگ مغربی رفح کے آخری حصے میں باقی رہ گئے ہیں۔
خیال رہے غزہ کے جس نے سات اکتوبر سے غزہ میں شروع ہونےوالی جنگ کے بعد سے غزہ کی 23 لاکھ کی آبادی میں سے بڑے حصے کو پناہ دے رکھی تھی۔
اسرائیلی فوج حماس پر الزام لگاتی ہے کہ حماس شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ جبکہ حماس کی طرف سے یہ الزام کو مسترد کیا جاتا ہے۔
اسرائیلی فوج نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایک نجی رہائش گاہ بڑی تعداد میں بھاری مقدار میں اسلحہ اور بارود پکڑا ہے۔ یہ اسلحہ الماریوں میں چھپایا گیا تھا۔ اس اسلحے میں مبینہ طور پر ٹینک شکن میزائل اور لانچرز بھی رکھے گئے تھے۔
حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ نے ایک بیان میں کہا ہے' اس کے مزاحمت کاروں نے دو اسرائیلی ٹۓینکوں کو ٹینک شکن میزائلوں سے تباہ کر دیا ہے۔ یہ کامیابی شابورو کیمپ کے نزدیک ملی ہے۔ اس دوران اسرائیلی فوجیوں کو بھی ہلاک کیا گیا ہے جو فرار ہونے کی کوشش میں تھے۔اسرائیلی فوج نے اس دعوے کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
خان یونس کے نزدیک ایک فضائی حملے میں اسرائیلی فوج نے تین فلسطینیوں کو ہلاک کیا ہے، طبی عملے کے مطابق ان ہلاک ہونے والے تین فلسطینیوں میں ایک باپ بیٹا بھی شامل تھے۔
علاوہ ازیں اسرائیلی فوج نے غزہ کے شمالی حصے میں کچھ جنگجووں کو پیچھے دھکیلا ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق اسرائیلی فوج نے جمعرات کے روز غزہ کے بالکل وسط میں کئی مکانات بمباری سے مزید تباہ کر دیے ہیں۔
بعد ازاں جمعہ کے روز اسرائیلی بمباری کے نتیجے گزہ میں میونسپلٹی کے ایک دفتر کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ جس میں پانچ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ پانچوں افراد میونسپلٹی کے کارکن تھے اور سول ورکس سے وابستہ تھے۔ خدشہ ہے کہ اس بمباری میں مزید کئی افراد کی ہلاکتیں ہوئی ہے۔ واضح رہےاب تک غزہ میں 37431 فلسطینی اسرائیلی بمباری، گولہ باری اور فائرنگ سے ہلاک ہو چکے ہیں۔