سعودی عرب کے ماہر موسمیات ڈاکٹر عبداللہ المسند نے اس بات کی تردید کی کہ سعودی عرب میں گرمیوں کے موسم میں کی شدید گرمی کی وجہ سورج کا زمین سے قریب ہونا ہے۔ ایسا نہیں بلکہ حقیقت اس کےبرعکس ہے۔ موسم گرما میں سرما کے مقابلے میں سورج اور زمین کے درمیان فاصلہ تقریباً 5 ملین کلومیٹر بڑھ جاتا ہے۔ یہ 152 ملین کلومیٹر سے تھوڑا زیادہ ہوتا ہے۔ اس لیے ہم موسم سرما کی نسبت گرمیوں میں سورج کی ڈسک کو چھوٹا دیکھتے ہیں۔
پیشین گوئی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ موسم گرما کی گرمی کی پہلی وجہ یہ ہے کہ اس کی وجہ سورج کی شعاعیں شمالی نصف کرہ پرخط استویٰ پر پڑتی ہیں۔ اس طرح دن کی روشنی کے اوقات طویل ہوتے ہیں۔
وہ اس کے بارے میں مزید کہتے ہیں کہ "سورج کی واپسی کے بعد تک کوئی گرمی نہیں ہوتی "۔اس کا مطلب یہ ہے کہ شدید گرمی اس وقت شروع ہوتی ہے جب سورج ہر سال 21 جون کو سرطان کے مدار کے اوپر کھڑا ہوتا ہے۔ یہ اس کے آغاز کی نمائندگی کرتا ہے۔اس کے بعد جولائی کے آخر اور اگست کے آغاز میں درجہ حرارت شدت اختیار کرتا ہے۔ خاص طور پرجب سورج ہوط بنی تمیم اور مہد الذہب کے جنوب میں اور ینبع اور ربیع کے درمیان سے گزرتا ہے تو گرمی بڑھ جاتی ہے۔ واضح رہے کہ ایسے دنوں میں درجہ حرارت (عام طور پر) جنوبی عراق، کویت اور مشرقی سعودی عرب میں دنیا میں سب سے زیادہ درجہ حرارت کے طور پر ریکارڈ کیا جاتا ہے۔