اسرائیلی ٹیکس کے اقدام پر عیسائی رہنماؤں میں غم و غصہ
بلدیات کی طرف سے عیسائی فرقوں کو قانونی کارروائی کا انتباہ، نیتن یاہو نے منصوبہ معطل کر دیا
بڑے گرجا گھروں کے رہنماؤں نے اسرائیلی حکام پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے مقدس سرزمین میں عیسائیوں کے خلاف ٹیکس کی کارروائی شروع کر کے ان کی موجودگی پر "منظم حملہ" کیا ہے۔
اگرچہ اسرائیلی حکام نے اس اختلافی عمل کو معمول کے مالیاتی معاملہ کے طور پر مسترد کرنے کی کوشش کی ہے لیکن چرچ کہتا ہے کہ یہ اقدام صدیوں پرانی موجودہ حالت کے لیے پریشان کن ہے اور مقدس سرزمین میں عیسائیوں کی مختصر موجودگی کے لیے بڑھتی ہوئی عدم برداشت کی عکاسی کرتا ہے۔
اس ہفتے وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کو لکھے گئے خط میں بڑے عیسائی فرقوں کے سربراہان نے الزام لگایا ہے کہ اسرائیل کے طول و عرض میں چار بلدیات نے حال ہی میں چرچ کے حکام کو انتباہی خطوط جمع کروائے ہیں جس میں ٹیکس ادا نہ کرنے کی صورت میں انہیں قانونی کارروائی سے خبردار کیا گیا ہے۔
کیتھولک، یونانی آرتھوڈوکس اور آرمینیائی آرتھوڈوکس گرجا گھروں کے سربراہان نے لکھا، "ہمیں یقین ہے کہ یہ کوششیں مقدس سرزمین میں عیسائیوں کی موجودگی پر ایک مربوط حملہ ہیں۔ اس وقت جب پوری دنیا اور بالخصوص عیسائی دنیا اسرائیل میں ہونے والے واقعات کی مسلسل پیروی کر رہی ہے، ہمیں ایک بار پھر حکام کی طرف سے مسیحی موجودگی کو مقدس سرزمین سے باہر نکالنے کی کوشش سے نمٹنا پڑ رہا ہے۔"
عیسائی ایک مختصر سی اقلیت ہیں جو اسرائیل اور فلسطینی علاقوں کی آبادی کا 2 فیصد سے بھی کم ہیں۔ امریکی محکمۂ خارجہ کے مطابق اسرائیل میں 182,000، مغربی کنارے اور یروشلم میں 50,000 اور غزہ میں 1,300 عیسائی ہیں۔ اکثریت فلسطینیوں کی ہے۔
چرچ جو مقدس سرزمین کے بڑے زمیندار ہیں، کہتے ہیں کہ وہ دیرینہ روایات کے تحت پراپرٹی ٹیکس ادا نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کے فنڈز ان خدمات پر صرف ہوتے ہیں جن سے ریاست کو فائدہ ہوتا ہے مثلاً سکول، ہسپتال اور بزرگ افراد کے لیے رہائش۔
خط میں کہا گیا ہے کہ حالیہ مہینوں میں تل ابیب، رملہ، الناصرہ اور یروشلم کی بلدیات نے یا تو انتباہی خطوط جاری کیے ہیں یا مبینہ ٹیکس کے قرضہ جات کے لیے قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔
یروشلم بلدیہ نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ چرچ نے گذشتہ چند سالوں میں ٹیکس استثنیٰ کے لیے ضروری درخواستیں جمع نہیں کروائی تھیں۔ اس میں کہا گیا، "گرجا گھروں کے ساتھ ان کی ملکیتی تجارتی جائیدادوں کے لیے قرض وصول کرنے کی غرض سے بات چیت ہو رہی ہے۔"
دیگر بلدیات نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ یہ واضح نہیں تھا کہ آیا بلدیات نے مربوط کوشش کی یا ٹیکس اقدامات اتفاقی ہیں۔
2018 میں عیسائیوں نے اسرائیلی حکام کی طرف سے مقدس شہر میں تجارتی املاک پر ٹیکس عائد کرنے کے اقدام کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے چرچ آف ہولی سپوکر بند کر دیا تھا جو عیسائیوں کے لیے یسوع مسیح کے مصلوب ہونے اور احیا کے مقام کی حیثیت سے قابلِ تعظیم ہے۔
عیسائی رہنماؤں نے استدلال کیا کہ زائرین کے ہوسٹلز اور معلوماتی مراکز جیسے مقامات اہم مذہبی اور ثقافتی مقاصد پورے کرتے ہیں اور ان پر ٹیکس لگانے سے مقدس سرزمین میں عیسائی مذہبی رسومات ادا کرنے کی خلاف ورزی ہوگی۔ عوامی ردِعمل کے بعد نیتن یاہو نے فوری طور پر اس منصوبے کو معطل کر دیا۔