اسرائیل کے شمالی و جنوبی غزہ میں حملے ، القسام بریگیڈ و دیگر گروپوں سے تصادم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اسرائیلی فوج نے غزہ کے مختلف علاقوں بشمول شمالی و جنوبی غزہ میں بمباری کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ جبکہ رفح سے مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ کل رات سے رفح میں ٹینکوں کے ساتھ اسرائیلی فوج لڑ رہی ہے جبکہ حماس کے عسکری ونگ اور دوسرے عسکری گروپوں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ٹینکوں کو نشانہ بنایا ہے اور ٹینکوں پر ٹینک شکن میزائل پھینکنے کے علاوہ مارٹر گولوں سے بھی ٹینکوں کو نشانہ بنایا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ لڑائی کی شدت تل السلطان کے پڑوس میں مغربی رفح کی طرف جاری ہے۔ جہاں اسرائیلی فوج کے ٹینک آبادیوں میں اندھا دھند گھسنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ راستے میں ان کی جگہ جگہ جھڑپیں جاری ہیں۔

رفح میں لڑائی کا یہ سلسلہ سات مئی سے مشرقی رفح سے شروع ہوا جو اب تقریباً سارے رفح میں پھیل چکا ہے۔ بدھ ہی کے روز وزارت صحت فلسطین نے اطلاع دی ہے کہ رفح میں دو فلسطینی اسرائیل کے میزائل حملوں کے نتیجے میں جاں بحق ہو گئے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس نے حماس کے عسکری ونگ کے ایک جنگجو کو ہلاک کر دیا ہے جو مبینہ طور پر اسلحہ کی سمگلنگ میں ملوث تھا۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس نے درجنوں جنگجوؤں کو مختلف جگہوں پر بمباری سے نشانہ بنایا ہے اور یہ بمباری رات بھر سے جاری ہے۔ اس دوران فلسطینی گروپوں کے عسکری ڈھانچوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

ادھر شمالی غزہ کے ٹاؤن بیت لاحیہ میں اسرائیل نے بمباری کر کے ایک مکان کوتباہ کر دیا ہے۔ اب تک کی اطلاع کے مطابق اس کے نتیجے میں چار فلسطینی ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

شمالی غزہ میں خوراک کی غیرمعمولی کمی کا بھی مقامی لوگ ذکر کر رہے ہیں۔ جبکہ تھوڑی بہت دستیاب خوراک بہت زیادہ قیمت کے بدلے میں مل سکتی ہے لیکن اس کی قوت اب نہیں رہی ہے۔

ہزاروں بچے خوراک کی کمی کا شکار ہیں اور اب تک کم از کم 30 بچے خوراک کی کمی سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ صرف آٹا اور بند ڈبوں میں خوراک کہیں مل پا رہی ہے جبکہ سبزیاں، گوشت اور دودھ سمیت بچوں کی خوراک دور دور تک نظر نہیں آتی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں