اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ جلد ہی اس بات کا اعلان کریں گے کہ غزہ پٹی کے جنوبی شہر رفح میں فوجی آپریشن اپنے اختتام کے قریب ہے اور اسرائیل کی نظریں جنگ کے تیسرے مرحلے پر مرکوز ہیں۔
یہ بات ایک سینئر اسرائیلی ذمے دار نے اتوار کے روز اسرائیلی ٹی وی "چینل 13" کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بتائی۔ البتہ ذمے دار کا کہنا تھا کہ جنگ ختم نہیں ہو گی اور فضائی حملوں کی شکل میں عسکری کارروائی جاری رہے گی۔ حماس کی سرگرمیوں کے بارے میں جہاں کہیں بھی انٹیلی جنس معلومات ملیں تو ہم حرکت میں آئیں گے"۔
ادھر اسرائیلی وزیر اعظم نے رفح میں اسرائیلی فوجی مہم کا سیکورٹی جائزہ لیا۔ اس موقع پر بات چیت میں وزیر دفاع یوآؤ گیلنٹ اور چیف آف اسٹاف ہرتزی ہیلفی بھی شریک تھے۔ ان کے علاوہ اسرائیلی فضائیہ، جنوبی کمان، آپریشنز، انٹیلیجنس کے سربراہان کے ساتھ ساتھ سیگر سینئر قیادت بھی موجود تھی۔
اسرائیلی اخبار "یرشلم پوسٹ" کی ویب سائٹ کے مطابق وزیر دفاع گیلنٹ نے رفح میں آپریشن کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ "وقت درحقیقت ان کے خلاف کام کر رہا ہے نہ کہ ان کے مفاد میں"۔ گیلنٹ نے مزید کہا کہ "ان کے پاس کوئی جگہ نہیں جہاں وہ خود کو مسلح کر سکیں ، خو کو تیار کر سکیں ، ان کے پاس عسکری کمک لانے اور اپنے زخمیوں کی نگہداشت کا کوئی ذریعہ نہیں"۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا کہ "ہم اپنی کارروائی جاری رکھیں گے یہاں تک کہ حماس اپنی قوت کی تعمیر نو کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے"۔
یاد رہے کہ اسرائیل نے سات مئی کو مصر کے ساتھ سرحد پر واقع رفح کی راہ داری کی فلسطینی جانب کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ بعد ازاں اسرائیلی ٹینک رفح شہر کے وسط میں داخل ہو گئے جہاں بے گھر فلسطینیوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔