مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے تناظرمیں امریکہ، یورپ اور اسرائیل کے ہاں ایرانی جوہری پروگرام اور ایران نوازملیشیائیں توجہ کا مرکز ہیں۔ کیونکہ یہ دونوں اس وقت خطےمیں فلیش پوائنٹ بنا ہوا ہے۔
خطے میں جنگ کی گرما گرمی
امریکی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے العربیہ اور الحدث سے بات کی اور خطے کو"ہاٹ زون" قرار دیا۔
گذشتہ برسوں کے دوران جو بائیڈن کی سربراہی میں امریکی انتظامیہ نے کشیدگی کو روکنے اور استحکام برقرار رکھنے کی کوشش کی لیکن اب وہ ایرانی فائل پر زیادہ توجہ دینے کی کوشش کررہے ہیں۔
امریکی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے ’العربیہ‘ ’الحدث‘ کوبتایا کہ مشرقی بحیرہ روم کے علاقے میں بحری اور فضائی افواج کی تعیناتی معمول کے پروگرام کا حصہ ہے لیکن اگرضرورت ہو تو یہ افواج اپنی قیات کو مزید آپشن دے گی۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ امریکی بحریہ جسے WASP کے نام سے جانا جاتا ہے، میں متعدد جنگی جہاز شامل ہیں۔ یہ مشرقی بحیرہ روم میں تعینات ہوں گے اور F-35 لڑاکا طیارے سمیت بڑے دفاعی اور فضائیہ کی صلاحیتوں کو استعمال کرے گی۔
ایران اور اس کی ملیشیاؤں کو روکنے کی فورس
امریکی حکومت کا کوئی اہلکار یہ نہیں کہنا چاہتا کہ ان افواج کے کیا مقاصد ہیں؟۔ یہ افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ وہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ چھڑنے کی صورت میں امریکیوں کی طرف سے مدد کے لیے تعینات کیے جا رہے ہیں۔ بعض امریکی حکام نے بار بار کہا کہ وہ ڈیٹرنس مشن انجام دیں گے۔ انہوں نے مشن یا مشن کی نوعیت کے حوالے سے مزید وضاحت نہیں کی۔
امریکی افواج ایک ایسے وقت میں تعینات کی جا رہی ہیں جب شام اور عراق میں موجود ملیشیائیں جنگ کی صورت میں حزب اللہ کے ساتھ کھڑی ہونے کا اعلان کرچکی ہیں۔ امریکی حکام کا خیال ہے کہ مشرقی بحیرہ روم میں اضافی افواج کی موجودگی ایران اور اس کی ملیشیاؤں کو کسی بھی ممکنہ کشیدگی سے روکنے میں مدد کریں گی۔
جوہری معاملہ
لیکن سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ ایران نے اپنے جوہری ہیڈ کوارٹر میں یورینیم افزودہ کرنے والی مشینیں نصب کی ہیں اور وہ 60 فیصد کی سطح پر یورینیم کی افزودگی کی طرف بڑھ رہا ہے۔
امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن اور ان کے اسرائیلی ہم منصب یو آؤ گیلنٹ کے درمیان ہونے والی آخری ملاقات میں اسرائیلی وفد نے ایرانی جوہری فائل کو دیکھنے کی ضرورت، اس سے لاحق خطرات اور ان خطرات سے نمٹنے کی ضرورت پر زور دیا۔
توقع ہے کہ اسرائیلی حکام اس سلسلے میں آنے والے دنوں میں امریکی انتظامیہ سے ملاقاتیں کریں گے جب کہ امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے دو ہفتے قبل ’العربیہ‘ اور’الحدث‘ کو بتایا تھا کہ امریکا ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
انہوں نے اس وقت اس بات پر زور دیا تھا کہ امریکہ جوہری فائل کے معاملے کو بہت سنجیدگی سے لیتا ہے، جب کہ دیگرامریکی حکام نے متعدد مواقع پرکہا کہ جوہری معاہدے کا معاملہ اوراس کی طرف واپسی ماضی کا قصہ بن چکا ہے۔
ڈیموکریٹس میں اختلاف رائے
ایسا لگتا ہے کہ امریکہ اب ایرانی مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک عبوری مرحلے میں ہے۔ ری پبلیکنز انتظامیہ کی عمومی سوچ سخت بات کرنا چاہتی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے وہ ایرانی جوہری پروگرام کو ہلکا لے رہے ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ فار اے نیوامریکن سکیورٹی میں سینٹر فار مڈل ایسٹ سکیورٹی کے سربراہ جوناتھن لارڈ جوامریکی انتظامیہ کی سوچ کے قریب ہیں نے کہا کہ "قدم بہ قدم بڑھتی ہوئی یورینیم افزودگی کا مقصد ایران کا امریکہ اور یورپ پردباؤ ڈالنا ہے کیونکہ ان کی طرف سے ایران کو سخت رد عمل کا سامنا نہیں۔
جوناتھن لارڈ نے فوجی آپشن کےآپشنز کو مسترد کر دیا اور نشاندہی کی کہ ایران کا جوہری ہیڈکوارٹر مزید مضبوط ہو گیا ہے۔ فوجی حملے کی وجہ سے ایرانی جوہری پروگرام کوخاطرخواہ نقصان نہیں پہنچتا۔
ایران یہ سمجھتا ہے کہ جوہری پروگرام قومی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ڈیٹرنس کی خاطر انتہائی ضروری ہے"۔
جوناتھن لارڈ کا کہنا ہے کہ ڈیموکریٹک انتظامیہ یعنی باراک اوباما انتظامیہ اور پھر جو بائیڈن انتظامیہ فوجی آپشنز کو خارج از امکان سمجھتی ہیں۔