"غزہ جنگ: امریکی شراکت ناقابل تردید، امریکی پالیسی سے قومی سلامتی کو خطرہ ہے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

صدر جوبائیڈن کی انتظامیہ سے اسرائیل نواز پالیسی پر اختلاف پر مستعفی ہونے والے امریکی حکام نے ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے جوبائیڈن انتظامیہ کی غزہ جنگ کے بارے میں پالیسی امریکی ناکامی بھی رہی اور امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے ایک خطرہ بھی ہے۔ امریکی سفارت کار مسلسل امریکہ سے اسرائیل جانے والے اسلحہ کو چھپاتے رہے۔

مشترکہ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس سے ہمارے لیے ناقابل تردید پیچیدگیاں پیدا ہوئیں، فلسطینیوں کی ہلاکتیں ہوئیں اور زیر محاصرہ غزہ میں جبری بھوک و قحط کا ماحول پیدا ہوا ۔ سابق امریکی حکام نے کہا ہے کہ اسرائیل کی غزہ جنگ میں امریکہ کی ناقابل تردید شراکت موجود ہے۔ اس لیے ہمیں مستعفی ہونا پڑا۔

جوبائیڈن انتظامیہ کے پالیسی اختلاف پر مستعفی ہونے والے 12 حکام کے بیان میں اسرائیل کے طویل المدتی مفادات اور امریکی قومی سلامتی کے امور پر بھی بات کی گئی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے ہم سب نے الگ الگ فیصلہ کیا ہے کہ ہمیں مستعفی ہو جانا چاہیے۔ دوران ملازمت ہم سب کے حالات کار مختلف تھے اور ہمیں مختلف طرح کی صورتحال کا سامنا تھا۔ لیکن آج ہم سب متحد کھڑے ہیں اور ایک مشترکہ ایمان کے ساتھ کھڑے ہیں کہ یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم غزہ کی جنگ اور اس کے بارے میں امریکی پالیسیوں پر بولیں۔

خیال رہے یہ مشترکہ بیان ان 12 امریکی سابق حکام کی طرف سے ہے۔ جنھوں نے الگ الگ موقع پر صرف اس بنیاد پر اعلیٰ امریکی عہدوں اور اپنے کیریئر کو قربان کر دیا کہ وہ اپنے اصولی مؤقف اور ضمیر کے مطابق امریکی پالیسی کی غزہ میں حمایت جاری نہیں رکھ سکتے تھے۔ ان میں زیادہ تر تعداد خواتین کی ہے۔

انہوں نے امریکی صدر جوبائیڈن پر الزام لگایا ہے کہ وہ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی مظالم پر اندھے پن کا شکار رہے۔ جوبائیڈن انتظامیہ اس حقیقت سے انکاری رہی اور اپنی اس تنقید کا ذکر کرتی رہی جو غزہ میں سویلینز کی ہلاکتوں کے حوالے سے تھی یا انسانی بنیادوں پر امدادی کوششوں کو بڑھاوا دینے کے لیے تھیں۔

جبکہ غزہ کے صحت سے متعلق حکام کا کہنا ہے کہ تقریباً 38 ہزار فلسطینی قتل کیے جا چکے ہیں۔

12 سابق امریکی حکام کا یہ مشترکہ بیان منگل کے روز جاری کیا گیا ہے۔ یہ مشترکہ بیان امریکی انتظامیہ کی ان غلط کاری پر مبنی پالیسیوں کے بارے میں ہے جو غزہ جنگ کے دوران امریکی انتظامیہ اختیار کیے ہوئے ہے۔

مستعفی ہونے والے ان سابق امریکی حکام نے ایسے چھ نکات پر مشتمل سفارشات کی بھی نشاندہی کی ہے کہ جن سے چیزوں کا تعین ہو سکتا ہے۔ ان امریکی حکام میں محمد ابو ہاشم ، لیلی گرین برگ کال ، انا ڈیل کیسٹیلو، سٹیسی گلبرٹ ، طارق ہباش، مریم حسنین ، میجر ریلے لائیورمور ، میجر ہری سن مان، جوش پال ، ہالہ راہریٹ ، انیلی شیلائن اور الیگزینڈر سمتھ شامل ہیں۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے جوبائیڈن انتظامیہ کی غزہ جنگ کے بارے میں پالیسی امریکی ناکامی بھی رہی اور امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے ایک خطرہ بھی ہے۔ امریکی سفارت کار مسلسل امریکہ سے اسرائیل جانے والے اسلحہ کو چھپاتے رہے۔ جس سے ہمارے لیے ناقابل تردید پچیدگیاں پیدا ہوئیں۔ فلسطینیوں کی ہلاکتیں ہوئیں اور زیر محاصرہ غزہ میں جبری بھوک و قحط کا ماحول پیدا ہوا ۔

یہ نہ صرف اخلاقی طور پر غلط اور افسوسناک تھا بلکہ بین الاقوامی قاقون اورخود امریکی قوانین کی بھی خلاف ورزی پر مبنی تھا۔ لیکن اس سب کچھ کو امریکی پشت پناہی کے ساتھ ہدف بنائے رکھا گیا۔

سابق امریکی حکام کے مشترکہ بیان میں پیش کردہ چھ سفارشات میں کہا گیا ہے کہ دہانت داری سے قانون پر عملدرآمد کرتے ہوئے تنازعہ کو خاتمے کے قریب لانا اور تمام یرغمالیوں کو رہا کرانا، اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کی رہائی کے لیے تمام ضرروی اور فراہم سہولتوں کا استعمال کرنا، غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی بڑھانے کے لیے فنڈز اور تعاون میں اضافہ کرنا۔ فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی حمایت کرنا۔ نیز مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم سے اسرائیل کے فوجی قبضے کے ساتھ ساتھ ناجائز بستیوں کا خاتمہ کرنا شامل ہے۔

ان پیش کردہ سفارشات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تنظیمی ڈھانچے اور ثقافتی سطح پر تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ جس نے موجودہ امریکی مؤقف کو متحرک کر رکھا ہے۔ جیسا کہ امریکی یونیورسٹیوں میں اسرائیلی جنگ کی حمایت کے خلاف مظاہرین پر پولیس کا ردعمل آزادی اظہار کو خطرے میں ڈالنے کی نشاندہی کرتا ہے۔

سابق امریکی حکام نے کہا ہے کہ اسرائیل کی غزہ جنگ میں امریکہ کی ناقابل تردید شراکت موجود ہے۔ اس لیے ہمیں مستعفی ہونا پڑا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں