غزہ میں انسانی بنیادوں پر امداد سامان بشمول ایندھن کی فراہمی میں مسلسل حائل رکاوٹوں کے حوالے سے عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے انتباہ کیا ہے کہ ایندھن کی مسلسل قلت صحت کی خدمات کے لیے سخت تباہ کن ہو گی۔
سات اکتوبر کے بعد سے اسرائیل نے غزہ کی پٹی کو مسلسل زیر محاصرہ رکھا ہے۔ امدادی سامان کا ذریعہ بننے والے والی راہداریاں بھی اسرائیلی کنترول میں ہونے کی وجہ سے عملاً بند پڑی ہیں۔ امدادی سامنی، خوراک اور حتیٰ کہ ادویات اور ایندھن کی ان راہداریون سے فراہمی بھی نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔
اس صورت حال میں عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ازانوم گریبیس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ' ایکس ' پر لکھا ہے' ایندھن کی شدید کمی کی وجہ سے غزہ کی پٹی پرصحت کے شعبے میں خدمات میں مزید خلل آنے والا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے سربراہ کے مطابق واضح ایک روز قبل یعنی بدھ کو صرف 90,000 لٹر تیل غزہ میں داخل ہوا ، جبکہ صرف صحت کے شعبے کے لیے روزانہ 80000لٹر ایندھن کی ضرورت ہوتی ہے۔
ٹیڈروس نے کہا کہ یہ صورت حال عالمی ادارہ صحت اور غزہ میں اس کے شراکت داروں کام کرنے والوں کو ایک غیر ممکن انتخاب پر مجبور کر رہی ہے۔
کیونکہ غزہ کی مکمل طور پر ناکہ بندی جاری ہے اور اس میں داخل ہونے والی ہر چیز پر اسرائیلی فوج کا کنٹرول ہے۔
ان حالات میں ایندھن کا حصول مزید مشکل کر دیا گیا ہے۔ کیونکہ اسرائیل کا ہے دعویٰ کہ ایندھن کی غزہ میں دستیابی سے حماس کے جنگجوؤں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس کے شراکت دار فی الحال صرف اہم ہسپتالوں کو ایندھن کی محدود فراہمی کے لیے کہہ رہے ہیں، ان ہسپتالوں میں ناصر میڈیکل کمپلیکس ، خان یونس میں العمل ہسپتال اور رفح کا کویت ہسپتال شامل ہیں۔
ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس نے کہا کہ فلسطینی ہلال احمر کی طرف سے چلائی جانے والی 21 ایمبولینسوں کو بھی ایندھن جا رہا تھا تاکہ خدمات کسی حد تک جاری رہ سکیں۔
انہوں نے یہ نشاندہی کی ہے کہ خان یونس میں یورپی غزہ ہسپتال منگلکے روز سے بند ہے، انہوں نے انتباہ کیا غزہ کی پٹی میں مزید ہسپتالوں ک ایندھن کی وجہ سےبند ہوجانا سخت تباہ کن ہوگا۔ غزہ کی فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اس وقت وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق 87445 فلسطینی زخمی اور 38011 ہلاک ہو چکے ہیں۔