فلسطینی کاز کو برطانیہ کی پارٹی سیاست پر فوقیت حاصل ہے: فلسطینی سفیر
العربیہ کو خصوصی انٹرویو میں حسام زلمت نے مسئلہ فلسطین کی اہمیت اور حساسیت پر روشنی ڈالی
برطانیہ میں فلسطینی سفیر حسام زلمت نے کہا ہے کہ فلسطینی کاز کو برطانیہ میں کسی مخصوص سیاسی جماعت سے متعلق معاملے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
زلمت نے العربیہ انگلش کی روزانا لاک ووڈ کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران فلسطینی مقصد کی حساسیت اور اہمیت پر بات کرتے ہوئے کہا، "فلسطین کوئی تعصب پر مبنی مسئلہ نہیں ہے۔ یہ جماعتی مسئلہ نہیں ہے۔ فلسطین کو برطانیہ کا اور ایک بین الاقوامی مسئلہ ہونا چاہیے کیونکہ یہ انسانی حقوق کا مسئلہ ہے۔ یہ بین الاقوامی قانون کا مسئلہ ہے اور یہ لوگوں کے ناقابلِ انکار حقوق کا مسئلہ ہے جو طے شدہ ہے اور اس پر بحث کی ضرورت نہیں۔" یہ انٹرویو العربیہ انگلش کی برطانیہ کے عام انتخابات کی خصوصی کوریج کا حصہ ہے۔
مسٹر زلمت نے یہ بھی کہا کہ برطانیہ کو فلسطینی ریاست کو پہلے ہی تسلیم کر لینا چاہیے تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ لندن نے ایسا کرنے کے "کئی مواقع ضائع کر دیئے۔"
فلسطینی ایلچی نے فلسطینیوں کے لیے برطانوی عوام کی حمایت کی تعریف کی جس کا اظہار انہوں نے گذشتہ اکتوبر میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے عوامی مظاہروں اور دیگر اقدامات کی صورت میں کیا ہے۔
برطانیہ کے انتخابات
لیبر پارٹی تبدیلی کی حامی ہے جو 14 سال تک کنزر ویٹو پارٹی کی حکمرانی کے بعد اصلاحات کی وکالت کر رہی ہے۔ کنزر ویٹو پارٹی کی حکومت میں معاشی چیلنجز، روزمرہ زندگی کے اخراجات کا بحران، بریگزٹ سے متعلق تقسیم اور متعدد پارٹی سکینڈلز شامل ہیں۔
کیر اسٹارمر کی سنٹر لیفٹ پارٹی برطانیہ کے عام انتخابات جیتنے کے لیے فیورٹ ہے جو انہیں اگلا وزیرِ اعظم مقرر کرے گی اور یورپ اور اس سے باہر دائیں بازو کی سیاست کی طرف حالیہ رجحان کی نفی کرے گی۔
غزہ میں اسرائیل-حماس جنگ کے بارے میں اسٹارمر کی پالیسی بہت حد تک وزیرِ اعظم رشی سنک کی کنزرویٹو حکومت سے مطابقت رکھتی ہے۔ دونوں جماعتیں اس بات پر زور دیتی ہیں کہ اسرائیل کو بین الاقوامی قانون کی حدود میں اپنے دفاع کا حق حاصل ہے جبکہ فلسطینیوں کی ہلاکتوں کی تعداد پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔
دونوں جماعتیں جنگ بندی، اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی، اور شرقِ اوسط میں امن عمل کے ایک حصے کے طور پر فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتی ہیں اگر تنازعہ کے فریقین متفق ہوں۔