غزہ کی پٹی پر ہزاروں بے گھر فلسطینیوں نے فٹ بال سٹیڈیم کی گراؤنڈ پر پناہ لے لی ہے۔ یہ گراؤنڈ کسی زمانے میں سب سے بڑے سٹیڈیم کا درجہ رکھتا تھا اب بےگھروں کی پناہ گاہ بنا ہوا ہے۔ جہاں فلسطینی خاندان انتہا محدود خوراک و پانی کے ساتھ رہ رہے ہیں تاکہ اسرائیلی بمباری سے کچھ فاصلے پر آگے رہ سکیں۔ یوں ان پناہ گزینوں کے چلنے کے پیچھے پیچھے اسرائیلی بمباری بھی چل رہی ہوتی ہے۔
پناہ گزینوں کے کیمپ سٹیڈیم کے شیڈ کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں جبکہ سٹیڈیم کی کرسیوں پر پناہ گزینوں نے اپنے کپڑے لٹکا رکھے ہیں۔ ہر طرف دھول زدہ ماحول اور خشکی ہے۔ وہ بینچ جن پر کھلاڑی فارغ وقت میں بیٹھتے ہیں ان کے نیچے بھی لوگوں نے پناہ لے رکھی ہے۔
ام بشر اپنے ننھے بیٹے کو چھوٹے سے پلاسٹک کے ٹب میں کھڑا کر کے نہلا رہی ہیں۔ جب وہ اس پر پانی ڈالتی ہیں یا سر پر صابن لگاتی ہیں تو وہ سٹیڈیم کی کرسیوں کو پکڑ کر سہارا لیتا ہے تاکہ گر نہ جائے۔ وہ کانپتا بھی ہے مگر کرسیاں اس کو سہارا دے دیتی ہیں۔
ام بشر کہتی ہیں کہ 'ہم اس جنگ کے دوران بار بار نقل مکانی کر چکے ہیں اور بےگھر ہو چکے ہیں۔ ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچتے ہیں تو اسرائیلی بمباری وہاں بھی شروع کر دی جاتی ہے۔ جیسا کہ شجاعیہ میں ہو چکا ہے جو غزہ شہر کے پڑوس میں قائم بستی ہے۔'
ام بشر کے مطابق 'ہماری آنکھ کھلی تو گھر کے باہر ٹینک کھڑے تھے۔ ہم اپنے ساتھ کوئی بھی چیز نہ لا سکے۔ نہ میٹرس، نہ سرہانے، نہ کوئی کپڑا، نہ کوئی اور چیز حتیٰ کہ کھانا بھی نہیں۔'
وہ بتا رہی تھیں کہ شجاعیہ کے دوسرے 70 لوگوں کے ساتھ انہوں نے نقل مکانی شروع کی اور سپورٹس سٹیڈیم میں آکر رک گئیں۔ یہ شجاعیہ سے تقریباً 3 کلومیٹر شمال مغرب میں ہے۔ اس پر جنگ کے شروع میں بھاری پیمانے پر بمباری شروع ہو گئی تھی اور یہ خالی ہو گیا تھا۔ بہت سارے لوگ جنھوں نے سٹیڈیم میں رہنا چھوڑ دیا ہے وہ کہتے ہیں کہ انہیں اب یہاں واپس آنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔
ایک شہری حاضم ابو ثریا نے کہا ہم نے اپنے گھر چھوڑ دیے ہیں کہ ہمارے گھروں پر بمباری کی گئی۔ انہیں جلا کر خاکستر کر دیا گیا اور اسی طرح ہمارے گرد و پیش کو بمباری کر کے ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا۔ اب بھی سینکڑوں ہزاروں لوگ شمالی غزہ میں موجود ہیں۔ حالانکہ وہاں اسرائیلی فوج نے گھیرا ڈال رکھا ہے اور شمالی غزہ کو باقی علاقوں سے کاٹ کر رکھ دیا ہے۔ وہاں امدادی سامان کی ترسیل بھی اچھی نہیں تھی۔ کہا جا رہا ہے کہ اب وہاں کچھ بہتری ہوئی ہے۔
جیسا کہ اقوام متحدہ نے پچھلے ہفتے کہا اب ہم اس پوزیشن میں آگئے ہیں کہ غزہ کہے شمال میں لوگوں کی بنیادی ضروریات پوری کر سکیں۔
اسرائیل یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ وسطی غزہ تک بھی امدادی سامان کی ترسیل کی اجازت دے رہا ہے لیکن یہ اقوام متحدہ کی نا اہلی ہے کہ وہ لوگوں تک امداد نہیں پہنچا پا رہی۔
شمالی غزہ کے لوگ کہتے ہیں کہ ان سے ہر چیز چھن گئی ہے اور وہ اپنے آپ کو ہر وقت خطرے میں محسوس کرتے ہیں۔ ایسا خطرہ جو ہر وقت بڑھ رہا ہے۔ ہمارے لیے کوئی جگہ اب محفوظ نہیں ہے سوائے اللہ کی پناہ کے۔ یہ بات ام امحمد نے کہی۔
وہ کہتی ہیں 'خوف کا احساس بچوں میں ہی نہیں کہ اب بڑوں میں بھی ہونے لگا ہے کہ ہمیں سڑکوں پر چلتے ہوئے لگتا ہے کہ ابھی بم آگریں گے۔'
-
آئی سی سی پراسیکیوٹر نے نیتن یاہو اور گیلنٹ کے وارنٹ گرفتاری کو دورہ غزہ پر ترجیح دی
مئی کا مہینہ اسرائیل کی غزہ جنگ میں کئی حوالوں سے اہم رہا۔ سات مئی کو اسرائیل نے ...
مشرق وسطی -
غزہ میں فوری جنگ بندی کی حمایت کرتے ہیں : نو منتخب برطانوی وزیر خارجہ
برطانیہ کے نئے وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے بطور وزیر اپنے ابتدائی بیان میں غزہ میں ...
بين الاقوامى -
کسی بھی قسم کی غیر ملکی فوج کی غزہ میں تعیناتی اور تسلط مسترد کرتے ہیں: حماس
فلسطینی مسلح تحریک حماس نے غزہ میں کسی بھی نام اور جواز کے ساتھ غیر ملکی افواج کی ...
مشرق وسطی