درجہ حرارت میں اضافے کے باوجود ہم سابق ریکارڈ تک نہیں پہنچے: سعودی عرب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

موسمیات کے قومی مرکز کے سرکاری ترجمان حسین القحطانی نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا ہے کہ سعودی عرب کے علاقوں خاص طور پر مشرقی اور وسطی علاقوں میں اس سال موسم گرما میں درجہ حرارت میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

موسم گرما کے پہلے مہینے میں ہم نے ابھی تک گزشتہ سالوں میں درج کردہ درجہ حرارت کا ریکارڈ نہیں توڑا ہے۔ جیسا کہ سعودی عرب کی مشرقی گورنریٹ "النعیریہ" میں 53 ڈگری ریکارڈ کیا گیا، "شرقیہ خطے"میں 52 اور ’’الکویت" میں درجہ حرارت 54 ڈگری تک ریکارڈ کیا گیا۔

حسين القحطاني
حسين القحطاني

القحطانی نے مزید بتایا کہ ابھی تک ہم زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کر رہے ہیں، لیکن ہم نے گزشتہ برسوں میں ریکارڈ کیے گئے درجہ حرارت کو نہیں توڑا۔ گرمیوں کا موسم خلیجی خطے، عراق اور بعض ملکوں میں گرم موسم ہے۔ سعودی عرب کے شمال میں خاص طور پر گرمیوں میں سایہ میں درجہ حرارت پچاس یا 48 یا 49 تک پہنچنا معمول کی بات ہے۔

اوسط درجہ حرارت

محکمہ موسمیات کے ترجمان نے بتایا کہ سعودی عرب میں اوسط درجہ حرارت کم از کم 36 ڈگری سے لے کر زیادہ سے زیادہ 48 ڈگری تک ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے گرمی کی لہر سے متاثر ہونے کی وجہ سے درجہ حرارت بڑھ سکتا ہے اور یہ 50 ڈگری تک پہنچ سکتا ہے۔

ایک گرم لہر

خلیج کے بڑے علاقے آنے والے دنوں میں گرمی کی لہر سے متاثر ہوتے رہیں گے اور عرب فضا کی بلندی کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے جو گرمی کے گنبد کے رجحان کو ایندھن فراہم کرنے کا کام کرتا ہے۔ اس سے خاص طور پر عراق، کویت، سعودی عرب کے کچھ حصوں، امارات اور سلطنت عمان میں درجہ حرارت تقریباً 50 ڈگری سیلسیس تک بڑھ سکتا ہے۔

ان کے مطابق انتہائی گرم ہوا کا ایک دہکتا ہوا مرکز عراق پر ہوگا اور عراق کے بیشتر علاقوں پر غالب رہے گا جس کی وجہ سے جمعرات اور جمعہ کو گرمی کی لہر میں واضح شدت آئے گی۔ درجہ حرارت مزید بڑھے گا۔ یہ اضافہ 4 سے 6 ڈگری تک ہوگا۔ اس وقت کے موسم کی سب سے مناسب وضاحت یہ ہوگی کہ بغداد اور عراق کے تمام علاقوں میں جھلسانے والی گرمی ہوگی۔

موسمیات کے قومی مرکز کی پیشین گوئیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاض کے علاقے کے کچھ حصے کل گرمی کی لہر سے متاثر ہوں گے۔ درجہ حرارت 47 سے 48 ڈگری تک بڑھ جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں