ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی حکومت کے دوران تہران اور واشنگٹن کے درمیان خفیہ رابطے اور مذاکرات جاری رہے۔ رئیسی اور ان کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان مئی میں ایک ہیلی کاپٹر کے حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے۔
دونوں فریقوں کے درمیان غیرعوامی مذاکرات زیادہ ترسلطنت عمان کی ثالثی سے ہوئے جن کی مکمل تفصیلات عام لوگوں اور حتیٰ کہ ایرانی حکومت کی بعض جماعتوں کے ساتھ بھی شیئر نہیں کی گئیں۔
سابق ایرانی وزیر خارجہ عبداللہیان اوران کے معاون علی باقری کنی ان مذاکرات میں براہ راست شریک تھے اورخود مقتول سابق صدر ابراہیم رئیسی نے مذاکراتی پل کو تہران سے واشنگٹن تک بڑھایا تھا۔
مذاکرات کا انجام
19 مئی کو رئیسی اوران کے ساتھ آنے والے وفد کے ہیلی کاپٹر کے گر کر تباہ ہونے کے بعد مذاکرات کے انجام کے بارے میں متضاد اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ جب کہ قائم مقام ایرانی وزیر خارجہ باقری کنی نے ان کے جاری رہنے کی تصدیق کی تھی۔ امریکی محکمہ خارجہ نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ رک گئے تھے۔
جب کہ سابق معاون وزیر خارجہ اور سابق چیف جوہری مذاکرات کار اور ایران کے موجودہ قائم مقام وزیر خارجہ علی باقری کنی نے دونوں فریقوں کی طرف سے بنے ہوئے دھاگے کو برقرار رکھنے کی کوشش کی، امریکہ نے باضابطہ طور پر تردید کی کہ مذاکرات نہیں ہو رہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو ایک بیان میں کہا کہ تہران کے ساتھ دو ماہ سے زیادہ عرصے سے کوئی بات چیت یا پیغامات کا تبادلہ نہیں کیا ہے"۔
یہ تردید قائم مقام ایرانی وزیر خارجہ باقری کنی کے ان بیانات کے جواب میں سامنے آئی ہے جنہوں نے گذشتہ بدھ کو تصدیق کی تھی کہ رئیسی اور عبداللہیان کی وفات کے بعد امریکہ کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی۔
جبکہ باقری کنی نے یہ واضح نہیں کیا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں کون یا کون سا ملک ثالثی کر رہا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے ’بی بی سی‘ کو وضاحت کی کہ واشنگٹن نے ایرانی حکام کے ساتھ بات چیت نہیں کی اور دو ماہ سے زیادہ عرصے سے دونوں ممالک کے درمیان خطوط کا تبادلہ نہیں ہوا۔
رئیسی کے مارے جانے سے تین دن قبل ’ایکسیس‘ ویب سائٹ نے اطلاع دی تھی کہ جو بائیڈن انتظامیہ کے دو اعلیٰ عہدیداروں نے عمان میں ایرانی حکام سے بالواسطہ بات چیت کی تھی کہ کس طرح علاقائی تنازعات کو بڑھنے سے روکا جائے۔ ویب سائٹ نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ یہ بات چیت ہوئی تھی۔ بات چیت صدر بائیڈن کے مشرق وسطیٰ کے امور کے مشیر بریٹ میک گرک اور ایران کے لیے نائب مندوب ابرام پیلے کی ایک بڑی تعداد کی موجودگی میں ہوئی۔
باقری کانی نے کیا کہا؟
امریکی محکمہ خارجہ کی تردید کے برعکس علی باقری کنی نے چار روز قبل ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کو بتایا تھا کہ سلطنت عمان کے ذریعے امریکہ کے ساتھ "بالواسطہ" مذاکرات ابھی بھی جاری ہیں۔
باقری کانی نے بدھ 10 جولائی کو وضاحت کی کہ "سلطنت عمان کے ذریعے امریکہ کے ساتھ پابندیوں کو ختم کرنے کے لیے مذاکرات کا عمل "اب بھی جاری ہے اور اپنے راستے پر گامزن ہے"۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ نئی حکومت کے قیام کا آغاز ایران پر عائد پابندیاں اٹھانے کی راہ ہموار ہوگی۔
دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار نے جمعے کے روز بی بی سی فارسی کو بتایا کہ امریکی حکومت کا مستقبل قریب میں ایران کے ساتھ بات چیت کا کوئی ارادہ نہیں ہے، لیکن انہوں نے زور دے کر کہا کہ امریکہ اب بھی سفارت کاری کو آگے بڑھنے کا بہترین راستہ سمجھتا ہے اور اس کا سہارا لے گا۔
قابل ذکر ہے کہ امریکہ نے ہفتے کو ایرانی کمپنی "حکیمان شرق" پر ایرانی کیمیائی ہتھیاروں کی تحقیق اور ترقی کے پروگرام میں کردار ادا کرنے پر پابندیاں عائد کی تھیں اور تہران پر الزام لگایا تھا کہ وہ 2018 سے کیمیائی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔