غزہ کی پٹی میں دیر البلح شہر میں ایندھن ختم ہو جانے کے سبب منگل کے روز سیوریج پمپوں نے کام کرنا بند کر دیا۔ اس کے نتیجے میں بیماریاں پھوٹ پڑنے کا اندیشہ ہے۔ یہ بات شہر کی بلدیہ نے بتائی۔
اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ کے سبب ہزاروں افراد نے بھاگ کر دیر البلح میں پناہ لی ہوئی ہے۔ مقامی حکام نے "صحت اور ماحول سے متعلق سنگین مصیبت" سے خبردار کیا ہے۔ اس سے شہر میں بسنے والے 7 لاکھ سے زیادہ افراد کو خطرے کا سامنا ہو گا۔
دیر البلح کی بلدیہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر آئندہ چند گھنٹوں میں مطلوبہ سولار ایندھن فراہم نہ ہوا تو شہر کی سڑکیں گندے پانی میں ڈوب جائیں گی۔
سات اکتوبر کی جنگ چھڑنے کے بعد سے غزہ کی پٹی میں بجلی کی فراہمی معطل ہے۔
دیر البلح کی بلدیہ میں ہنگامی کمیٹی کے سربراہ اسماعیل صرصور کے مطابق شہر میں 19 کنوئیں ور پانی کے دو بڑے ٹینک کام کرنا بند کر چکے ہیں۔ صرصور نے بتایا کہ اس کی مرکزی وجہ سولار ایندھن کا عدم انتظام ہے۔ مذکورہ تنصیبات کے ذریعے 140 سے زیادہ پناہ کے مراکز کو خدمات فراہم کی جا رہی تھیں۔
اسماعیل صرصور اور ماہرین کے مطابق متاثرہ انفرا اسٹرکچر کی درستی کے لیے لازمی طور پر مطلوب پرزہ جات کی شدید قلت ہے۔
منگل کے روز فلسطینی اتھارٹی نے اعلان کیا تھا کہ آئندہ دنوں میں بجلی کی وہ سپلائی لائن دوبارہ کام شروع کر دے گی جو غزہ کی پٹی میں وسطی علاقے کو خدمت فراہم کرتی ہے۔