حدیدہ بندرگاہ پر اسرائیلی حملے میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ: حوثی
آگ کے شعلوں پر تاحال قابو نہیں پایا جا سکا
یمن میں صحت کے مقامی حکام نے اتوار کے روز بتایا کہ حوثیوں کے زیرِ قبضہ بندرگاہ حدیدہ پر اسرائیلی حملے سے ہلاک شدگان کی تعداد چھے ہو گئی اور آگ بجھانے والی ٹیمیں آگ سے نبردآزما تھیں۔
جزیرہ نما عرب کے غریب ترین ملک اور جنگ سے تباہ حال یمن کے لیے ایندھن اور انسانی امداد کے ایک اہم داخلی مقام حدیدہ بندرگاہ پر اسرائیل نے پہلی بار حملے کا دعویٰ کیا ہے جو تقریباً 2,000 کلومیٹر (1,300 میل) کے فاصلے پر واقع ہے۔
حوثیوں کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت نے مقامی میڈیا کے ذریعے جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ اس میں چھے افراد ہلاک اور 83 زخمی ہوئے جن میں سے کئی شدید طور پر جھلس گئے تھے۔ اس نے کہا کہ تین دیگر لاپتہ تھے۔
اس سے قبل حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ سریع نے کہا تھا کہ گروپ کی طرف سے "ہمارے ملک کے خلاف اسرائیلی جارحیت کا جواب لامحالہ آ رہا ہے اور بہت بڑا ہو گا۔"
اسرائیل نے کہا کہ اس نے یہ حملہ حوثیوں کے تل ابیب پر ڈرون حملے کے جواب میں کیا ہے جس میں جمعے کو ایک شخص ہلاک ہوا تھا۔
اسرائیلی وزیرِ دفاع یوآو گیلنٹ نے کہا کہ "اگر حوثیوں نے ہم پر حملہ کرنے کی جرأت کی" تو ان کے خلاف مزید کارروائیاں کی جائیں گی۔
حملے کے بعد اسرائیلی فوج نے اتوار کے روز کہا کہ اس نے بحیرۂ احمر کے سیاحتی قصبے ایلات کی طرف یمن سے داغے گئے ایک میزائل کو روک دیا۔ اور کہا کہ "یہ میزائل اسرائیلی علاقے میں داخل نہیں ہوا۔"
حوثی ترجمان سریع نے کہا کہ گروپ نے ایلات کی طرف بیلسٹک میزائل داغے جو حوثیوں کی طرف سے بندرگاہی شہر کو نشانہ بنانے کی کوششوں کا تازہ ترین واقعہ ہے۔
اے ایف پی کے نمائندے نے بتایا کہ یہ اعلان اس وقت ہوا جب آگ بجھانے والے ارکان حدیدہ میں آگ پر قابو پانے کے لیے جدوجہد کر رہے تھے اور شہر کے اوپر دھوئیں کے گہرے بادل تھے۔
بندرگاہ کے ایک ملازم نے بتایا کہ آگ بجھانے کی "سست" کوششوں کے باعث بندرگاہ پر ایندھن ذخیرہ کرنے کے ٹینک اور ایک بجلی گھر بدستور جل رہے تھے۔
سکیورٹی خدشات کی وجہ سے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے ملازم نے کہا کہ آگ پر قابو پانے میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔ یمن کے ماہرین کی طرف سے اس کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔
امریکہ میں مقیم ناونتی گروپ کے شرقِ اوسط کے سینئر تجزیہ کار محمد الباشا نے کہا، "خدشہ ہے کہ ناقص تربیت یافتہ عملہ پھیلتی ہوئی آگ پر قابو نہیں پا سکے گا جو دنوں تک جاری رہ سکتی ہے"۔ انہوں نے خبردار کیا کہ آگ بندرگاہ پر خوارک کے گوداموں تک پہنچ سکتی ہے۔
'سنگین انسانی اثرات'
یمن میں حوثوں کے زیر قبضہ علاقوں کے لیے ایندھن کی درآمد اور بین الاقوامی امداد کے ایک اہم داخلی مقام الحدیدہ بندرگاہ حوثیوں اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے درمیان عشروں سے جاری جنگ کے دوران بہت حد تک نظر انداز رہی۔
حوثی باغیوں کا بحیرۂ احمر کے بیشتر ساحل سمیت یمن کے بڑے حصے پر کنٹرول ہے اور جنگ کی وجہ سے لاکھوں یمنی باشندے بندرگاہ کے ذریعے فراہم کردہ امداد پر انحصار کرتے ہیں۔
حوثیوں کی جانب سے ایندھن کے کافی ذخیرے کی یقین دہانی کے باوجود ہفتے کے حملے نے قلت میں مزید شدت کے خدشات پیدا کیے ہیں۔
یمن کے ایک ماہر نکولس برم فیلڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا، اس حملے سے "حوثیوں کے زیرِ قبضہ ملک کے لاکھوں عام یمنیوں پر سنگین انسانی اثرات مرتب ہوں گے۔"
تجزیہ کار نے کہا، اس سے ایندھن بلکہ ٹرک کے ذریعے لے جانے والے کسی سامان کی بھی قیمتیں بڑھ جائیں گی۔
یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت نے اس حملے کی مذمت کی اور اسرائیل کو خراب ہوتے ہوئے انسانی بحران کا ذمہ دار قرار دیا۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی سبا کے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یمنی حکومت "صہیونی ادارے کو اس کے فضائی حملوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے کسی بھی طرح کے اثرات بشمول انسانی بحران کی شدت کے لیے مکمل طور پر ذمہ دار" قرار دیتی ہے۔
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے اس حملے کی "شدید مذمت" کرتے ہوئے کہا، یہ "بچوں کو مارنے والی اسرائیلی حکومت کے جارحانہ رویے کا اظہار ہے۔"
-
یمنی حوثیوں نے اسرائیلی شہری ایلات کو بیلسٹک میزائلوں کے نشانے پر لے لیا
ایرانی حمایت یافتہ یمن کے حوثیوں نے اپنے ایک بیان میں اطلاع دی ہے کہ بیلسٹک ...
مشرق وسطی -
اسرائیلی فوج کا یمن سے داغا گیا میزائل مار گرانے کا دعویٰ
اسرائیلی فوج نے آج اتوار کے روز کہا ہے کہ اس نے بحیرہ احمر سے اسرائیل کی طرف آنے ...
مشرق وسطی -
یمن میں فوجی کشیدگی کی پیش رفت پر تشویش کے ساتھ نظر رکھے ہوئے ہیں: سعودی عرب
سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ریاض یمن کی الحدیدہ گورنری میں اسرائیلی ...
مشرق وسطی