سعودی عرب : بدعنوانی کے مقدمات میں ملزم کی درخواست پر ڈیل کا نیا نظام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

سعودی عرب کی کابینہ نے انسداد بدعنوانی کےحوالے سے ایک نئے قانون کی منظوری دی ہے۔ اس قانون کے تحت کرپشن میں ملوث ملزم کی جانب سے اگر اس کے ساتھ ڈیل کی درخواست کی جائے گی تو اس کے ساتھ معاہدے پر غور کیا جا سکے گا۔

مملکت میں انسداد بدعنوانی کمیشن ’نزاھہ‘ کے سربراہ جناب مازن الکہموس نے کہا کہا کہ کمیشن کا نیا نظام جسے کل بدھ کو وزراء کی کونسل نے منظور کیا ہے، انسداد بدعنوانی کے حوالےسے اپنےاختیارات کے استعمال میں اتھارٹی کے کردار کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔ مالی اور انتظامی بدعنوانی کی تمام شکلوں اور مظاہر میں یہ کیسز کے حل میں مدد گار ہوگا۔ اس کے ساتھ عوامی پیسے کے تحفظ اور قوم کی صلاحیتوں اور فوائد کو محفوظ رکھنے میں معاونت ملے گی۔ یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے قانون سازی کے نظام کو تیار کرنے میں دانشمند قیادت کی مسلسل حمایت کی ایک مثال ہے۔ اس کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ بدعنوانی کے جرائم کے مرتکب افراد کے خلاف قانونی اور ضابطہ کے تقاضوں کے مطابق کارروائی کی جائے اور ان کا احتساب کیا جائے۔ ان کے جرائم سے حاصل ہونے والی رقوم اور ان سے حاصل ہونے والی آمدنی ریاست کے سرکاری خزانے میں جمع کی جائے۔

بدعنوانی کے جرائم کی شکلیں

الکہموس نے کہا کہ نگران اور انسداد بدعنوانی کمیشن کا نظام جس میں چوبیس آرٹیکلز شامل ہیں بہت سی قانونی دفعات پر مشتمل ہے۔ان میں بدعنوانی کے جرائم کی وہ اقسام بیان کی گئی ہیں جن کی چھان بین ب’نزاھہ‘ کے تحت آتی ہے۔ان میں رشوت ستانی کے جرائم، عوامی فنڈزکا غبن، طاقت کا غلط استعمال، کوئی دوسرا جرم جو قانون کی بنیاد پر بدعنوانی کے جرم کے طور پر مقرر کیا گیا ہے۔ اس نظام میں انتظامی نگرانی، تفتیش، انتظامی استغاثہ، سالمیت کی حفاظت اورانسداد بدعنوانی اتھارٹی کے اختیارات کی بھی وضاحت کی ہے۔ اتھارٹی کے کام کے میدان میں علاقائی اور بین الاقوامی اداروں اور تنظیموں کے ساتھ شفافیت اور بین الاقوامی تعاون، مالی اور انتظامی بدعنوانی کے پہلوؤں کی تحقیقات، اور مجرمانہ تحقیقات اور استغاثہ جیسے امور کو شامل کیا گیا ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ اس نظام میں فوجداری تحقیقات اور پراسیکیوشن یونٹ اور اس کی آزادی سے متعلق دفعات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ یونٹ کے اراکین کے کیریئر کے معاملات سے متعلق اس میں مالی اور انتظامی جرائم سے متعلق دفعات بھی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مالی اور انتظامی بدعنوانی کے بعض جرائم میں تصفیہ کچھ معاشی اور سماجی اثرات کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوگا اور رضامندی کی ایک شکل اختیار کرکے لوٹی گئی رقوم کو ریاست کے سرکاری خزانے میں جمع کرکے عوامی مفادات کو حاصل کرسکیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں