شام کے شمالی اور مشرقی حصے میں خود مختار انتظامیہ کے علاقوں میں 11 جون کو مقررہ مقامی انتخابات اگست تک ملتوی کر دیے گئے تھے تاہم اب یہ تاریخ بھی تبدیل کر دی جائے گی۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بدھ کے روز خود مختار انتظامیہ کے اعلی سطح کے ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق انتظامیہ انتخابات ملتوی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس انتظامیہ کے کنٹرول میں آنے والے علاقوں میں حلب اور دیر الزور صوبوں کے کچھ حصے اور الرقہ اور الحسکہ میں دو قصبوں کے ما سوا پورے صوبے شامل ہیں۔ ان دو قصبوں پر اکتوبر 2019 کے اواخر میں ترکی نے قبضہ کر لیا تھا۔
ذرائع کے مطابق خود مختار انتظامیہ میں شریک جماعتوں کا سپریم الیکشن کمیشن سے ایک بار پھر یہ مطالبہ ہے کہ مقامی، علاقائی اور بین الاقوامی حالات کے سازگار ہونے تک انتخابات کو ایک بار پھر ملتوی کر دیا جائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مطالبے کا سبب شام کی بالعموم اور اس کے شمال مشرق میں بالخصوص موجودہ صورت حال ہے۔ ترکی اس وقت دمشق میں شامی حکومت کے ساتھ اپنے تعلقات دوبارہ بحال کرنے کی کوشش میں ہے اور علاقے میں ایک نئے دھاوے کا بھی خطرہ ہے۔
واضح رہے کہ خود مختار انتظامیہ نے مقامی انتخابات کے پہلے التوا کو وقت کی تنگی کے ساتھ جوڑا تھا جب کہ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا جب انتظامیہ کے علاقوں میں ترکی کے نئے فوجی آپریشن کے خطرات منڈلا رہے تھے۔
اس سے پہلے امریکا نے بھی خود مختار انتظامیہ کے علاقوں میں ان انتخابات کے عدم اجرا پر زور دیا تھا۔ یہ موقف شامی دار الحکومت دمشق میں امریکی سفارت خانے کے ذریعے سامنے آیا تھا۔
-
شامی ہم منصب کو کسی بھی وقت ترکیہ کے دورے کی دعوت دے سکتے ہیں: طیب ایردوان
ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے شام سے تعلقات کی بحالی کی طرف ایک اور قدم اگے ...
مشرق وسطی -
تعلقات بحالی، ترکیہ کی میڈیا سے دور شام کے ساتھ خصوصی ملاقات کی درخواست
ترکیہ کے صدر ایردوان کی جانب سے شام میں حکام اور اس کے صدر بشار الاسد کے ساتھ اپنے ...
بين الاقوامى -
ترکیہ کے ڈرون حملے، شام میں امریکی حمایت یافتہ کرد 4 جنگجو ہلاک ،11 زخمی
کرد فورسز کے ترجمان نے کہا ہے کہ جمعہ کی شام شمال مشرقی شام کے علاقے میں ترکیہ کے ...
بين الاقوامى