مسجدِ اقصیٰ میں عبادت اور دعا کی: انتہائی دائیں بازو کے اسرائیلی وزیر

یہودیوں کو وہاں عبادت کی اجازت نہیں ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

انتہائی دائیں بازو کے اسرائیلی وزیر نے بدھ کو کہا کہ انہوں نے یروشلم کے نکتۂ اشتعال الاقصیٰ مسجد کے احاطے میں عبادت کی تھی۔ ایسا کر کے انہوں نے ایک بار پھر ان دیرینہ اصولوں کی خلاف ورزی کی جو یہودیوں کو مسجد میں جانے کی اجازت دیتے ہیں لیکن عبادت کی نہیں۔

مسجد کا احاطہ اسلام کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے اور فلسطینی قومی شناخت کی علامت ہے لیکن یہودی بھی اپنی قدیم عبادت گاہ کے طور پر اس کی تعظیم کرتے ہیں جسے رومیوں نے 70 عیسوی میں تباہ کر دیا تھا۔

قومی سلامتی کے وزیر اتمار بین گویر نے اسرائیلی پارلیمنٹ میں ایک سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے کہا، "میں سیاسی قیادت ہوں اور سیاسی قیادت کو حرم شریف میں عبادت کی اجازت ہے۔"

اشتعال انگیزی کے لیے مشہور بین گویر نے کہا، "میں نے گذشتہ ہفتے حرم شریف میں عبادت کی تھی اور یہودی وہاں عبادت کر رہے تھے۔ کوئی وجہ نہیں ہے کہ اس کے بعض حصے یہودیوں کے لیے محدود ہوں۔"

جب کہ یہودیوں اور دیگر غیر مسلموں کو مخصوص اوقات میں اسرائیل سے منسلک مشرقی یروشلم میں مسجد کے احاطے میں جانے کی اجازت ہے لیکن انہیں عبادت یا مذہبی علامات کی نمائش کی اجازت نہیں ہے۔

حالیہ برسوں میں بین گویر جیسے سخت گیر مذہبی قوم پرستوں کی طرف سے پابندیوں کو تیزی سے پامال کیا جا رہا ہے جس سے فلسطینیوں کی طرف سے بعض اوقات پرتشدد ردِعمل سامنے آتا ہے۔

بین گویر کے تبصرے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو امریکی کانگریس سے خطاب کرنے والے ہیں۔ ان کا مقصد غزہ جنگ سے نمٹنے کے لیے صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے ساتھ کشیدہ تعلقات کے درمیان حمایت حاصل کرنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں