اسرائیل میں دروز کمیونٹی کے رہ نما الشیخ موفق طریف نے زور دے کرکہا ہے کہ مجدل شمس حملہ جس میں 12 افراد ہلاک ہوئے تھے میں سویلین اور فوجی میں فرق نہیں کیا گیا۔
انہوں نے اتوار کے روز العربیہ/الحدث کو اپنے بیانات میں مزید کہا کہ یہ فرقہ مجدل شمس کے بچوں کے قتل کی اس طرح مذمت کرتا ہے۔ اسرائیل نے انہیں مطلع کیا کہ میزائل ایرانی ماڈل کا تھا۔
انہوں نے وضاحت کی کہ "دروز کمیونٹی اسرائیل میں رہتی ہے اور لبنان میں اپنے لوگوں کی رازداری کا احترام کرتی ہے"۔ انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ہم لبنان میں اپنے لوگوں کا احترام کرتے ہیں اور ان کی رائے میں مداخلت نہیں کرتے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ "گولان میں ہمارے لوگوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جو چاہیں کہیں"۔
"دشمن پر طاقت ور ضرب"
قابل ذکر ہے کہ اسرائیل نے اتوار کو ایک میزائل گرنے کے بعد "دشمن پر زوردارحملہ" کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اس نے لبنانی حزب اللہ پر گولان کی پہاڑیوں پر حملہ کرنے کا الزام لگایا تھا، جس سے گولان کی پہاڑیوں میں 12 لڑکے اور لڑکیاں ہلاک ہو گئے تھے۔
جبکہ ایران کی اتحادی حزب اللہ نے اس حملے میں ملوث ہونے کی سختی سے تردید کی ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی قصبے مجدل شمس پر میزائل حملے کے بعد اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ لبنان میں کوئی بھی نئی فوجی مہم جوئی "غیر متوقع نتائج" کا باعث بن سکتی ہے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق لبنان سے داغا گیا میزائل مجدل شمس قصبے میں فٹ بال کے گراؤنڈ میں گراجس کے نتیجے میں بارہ افراد ہلاک ہوگئے۔ ہلاک ہونے والوں کی عمریں 10 سے 16 سال کی عمر کے درمیان ہیں جب کہ 30 کے قریب زخمی ہوئے۔ اتوار کو پولیس نے اطلاع دی کہ ایک 11 سالہ لڑکا لاپتہ ہے۔
اسرائیلی وزارت خارجہ نے کہا کہ یہ حملہ "فلق ون" میزائل کا استعمال کرتے ہوئے کیا گیا، جس کا وار ہیڈ 53 کلو گرام تھا۔ حزب اللہ نے کہا کہ اس کا اس واقعے سے "کوئی تعلق نہیں"۔