لبنان میں ایک نئی جنگ چھیڑنے کے خلاف اسرائیل کے اندر سے مضبوط آواز بلند ہو گئی ہے۔ اسرائیل جس دروز کمیونٹی کو 12 نوعمر بچوں کی لاشوں کو لبنان میں انتقام کے لیے سیڑھی بنانا چاہتا تھا، اس میں ایک بڑی رکاوٹ پیدا ہو گئی ہے اور دروز کمیونٹی کے زعما نے مطالبہ کیا ہے ہماری بچوں کے خون کو نئی جنگ کا بہانہ نہ بنایا جائے۔
منگل کے روز اسی دروز کمیونٹی کے نمائندوں نے نہ صرف اپنے عقائد کے مطابق کسی انتقامی قتل یا جنگ کو مسترد کر دیا ہے بلکہ گولان کی پہاڑیوں کو بھی مقبوضہ بتاتے ہوئے کہا ہے کہ ہم بھی اسرائیلی قبضے میں آچکی شامی سرزمین کے شامی باشندے ہیں۔ دروز کمیونٹی کے زعما نے خود کو حزب اللہ کے خلاف لبنان میں ایک نئی ممکنہ اسرائیلی جنگ سے دور کر لیا ہے۔
واضح رہے اسرائیلی قبضے میں شام کی گولان کی پہاڑیوں سے متصل مجدل شمس کے علاقے میں دروز کمیونٹی آباد ہے۔ یہ عرب شناخت رکھتے ہیں اور مذہبی اعتبار سے بھی خود کو شیعہ مسلمان کہتے ہیں۔ تاہم یہ ہر حوالے سے شامی اثرات لیے ہوئے ہیں نہ کہ ایرانی اثرات رکھنے والے ہیں۔ مجدل شمس پر میزائل حملے کے بعد نہ صرف یہ کہ نیتن یاہو نے مجدل شمس میں فوری طور پر فون کر کے دروز کمیونٹی کے ساتھ 12 افراد کی ہلاکت پر اظہار تعزیت کیا ۔
خیال رہے غزہ کی اسرائیلی جنگ میں ہلاک شدگان کی تعداد 39000 سے زیادہ ہے اور زخمیوں کی تعداد 90000 سے زائد ہے۔ غزہ میں ہلاک ہونے والے فلسطینیوں میں بچوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ تاہم یاہو نے دروز بچوں کی ہلاکت کا درد محسوس کیا اور پیر کے روز مجدل شمس کے علاقے کا دورہ بھی کیا۔
امریکہ اور اسرائیل دونوں کی طرف سے فوری طور پر اس میزائل حملے کی ذمہ داری حزب اللہ پر ڈالی گئی۔ لیکن حزب اللہ نے اس حملے سے اپنے تعلق کی بار بار تردید کی۔ اس کے باوجود اسرائیل نے 12 بچوں کی ہلاکت کا انتقام لیے کے لیے اپنی جنگ لبنان میں لڑنے کا اعلان کر دیا کہ بچوں کی ہلاکت برداشت نہیں اس کا انتقام لیا جائے گا۔
امریکہ نے بھی اس سلسلے میں علاقے میں اپنی افواج کو تیار کر دیا کہ اسرائیل کو کسی جانب سے مشکل نہ آ سکے۔
مگر دروز کمیونٹی کے زعما نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ دروز کمیونٹی کے عوام اس چیز کی اجازت نہیں دیتے کہ ان کے 12 افرد کی ہلاکت کو اس طرح جنگ اور انتقام کے لیے استعمال کیا جائے۔ ہم کسی سے انتقام لینے اور کسی کو ہلاک کرنے کا جائز نہیں سمجھتے ہیں۔ گویا ہمارے بچوں کے خون کا بدلہ لینے کے نام پر ایک نئی جنگ نہ چھیڑی جائے۔ نہ ہی مجدل شمس کو ایک سیاسی ضروت اور جنگ کے لیے استعمال کیا جائے۔
ادھر دروز کمیونٹی نے صدمے میں ہونے کے باوجود جنگی ماحول کے خاتمے کے لیے منگل کے روز سے شہر میں تمام دکانیں اور مارکیٹیں کھول لی ہیں۔