نیتن یاہو نے اسرائیلی وزراء کو اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت کے حوالے سے بیان بازی سے روک دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

العربیہ اور الحدث نیوز چینلوں کے ذرائع کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے تمام وزراء سے کہا ہے کہ وہ حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی تہران میں ہلاکت کے حوالے سے کوئی بیان نہ دیں۔

ادھر اسرئیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ صورت حال کا جائزہ لے رہی ہے اور داخلی محاذ پر کمان کے لیے ہدایات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

اس طرح کی خبریں آ رہی ہیں کہ شمالی اسرائیل میں فضائی حدود کو مکمل طور سے بند کر دیا گیا ہے۔

اسماعیل ھنیہ
اسماعیل ھنیہ

اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت کے بعد اسرائیلی جانب سے پہلا تبصرہ ورثے کے وزیر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہنیہ کی موت سے دنیا کچھ بہتر ہو جائے گی"۔ اسی طرح اسرائیلی وزیر مالیات بتسلیل سموتریش نے تبصرہ کیا ہے کہ "ہم اپنے تمام دشمنوں کو ہلاک کر دیں گے"۔

اس سے قبل حماس تنظیم نے بدھ کی صبح اعلان کیا کہ تہران میں ایک اسرائیلی حملے میں اس کے سیاسی دفتر کے سربراہ اسماعیل ہنیہ اپنے ایک ذاتی محافظ سمیت جاں بحق ہو گئے ہیں۔

ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے اس کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ "تہران میں حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی قیام گاہ پر بم باری کی گئی"۔ اس کے نتیجے میں ہنیہ اور ان کے ایک ذاتی محافظ ہلاک ہو گئے۔ پاسداران کے مطابق واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

ادھر حماس کے سیاسی دفتر کے رکن موسی ابو مرزوق کا کہنا ہے کہ یہ بزدلانہ عمل ہے اور اسماعیل ہنیہ کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔

اسماعیل ہنیہ منگل کے روز تہران پہنچے تھے جہاں انھوں نے نو منتخب ایرانی صدر کی تقریب حلف برداری میں شرکت کی۔

اس موقع پر ہنیہ نے صدر مسعود پزشکیان اور ایرانی رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای سے ملاقات کی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں