العربیہ اور الحدث نیوز چینلوں کے ذرائع کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے تمام وزراء سے کہا ہے کہ وہ حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی تہران میں ہلاکت کے حوالے سے کوئی بیان نہ دیں۔
ادھر اسرئیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ صورت حال کا جائزہ لے رہی ہے اور داخلی محاذ پر کمان کے لیے ہدایات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔
اس طرح کی خبریں آ رہی ہیں کہ شمالی اسرائیل میں فضائی حدود کو مکمل طور سے بند کر دیا گیا ہے۔
اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت کے بعد اسرائیلی جانب سے پہلا تبصرہ ورثے کے وزیر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہنیہ کی موت سے دنیا کچھ بہتر ہو جائے گی"۔ اسی طرح اسرائیلی وزیر مالیات بتسلیل سموتریش نے تبصرہ کیا ہے کہ "ہم اپنے تمام دشمنوں کو ہلاک کر دیں گے"۔
اس سے قبل حماس تنظیم نے بدھ کی صبح اعلان کیا کہ تہران میں ایک اسرائیلی حملے میں اس کے سیاسی دفتر کے سربراہ اسماعیل ہنیہ اپنے ایک ذاتی محافظ سمیت جاں بحق ہو گئے ہیں۔
#حماس: تم اغتيال هنية بغارة إسرائيلية على مقر إقامته في طهران بعد مشاركته بتنصيب بزشكيان#العربية pic.twitter.com/dIhcXajKtG
— العربية (@AlArabiya) July 31, 2024
ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے اس کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ "تہران میں حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی قیام گاہ پر بم باری کی گئی"۔ اس کے نتیجے میں ہنیہ اور ان کے ایک ذاتی محافظ ہلاک ہو گئے۔ پاسداران کے مطابق واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
ادھر حماس کے سیاسی دفتر کے رکن موسی ابو مرزوق کا کہنا ہے کہ یہ بزدلانہ عمل ہے اور اسماعیل ہنیہ کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔
اسماعیل ہنیہ منگل کے روز تہران پہنچے تھے جہاں انھوں نے نو منتخب ایرانی صدر کی تقریب حلف برداری میں شرکت کی۔
اس موقع پر ہنیہ نے صدر مسعود پزشکیان اور ایرانی رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای سے ملاقات کی۔