امریکی حکومت نے 11 ستمبر (2001) کے حملوں کے ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد کے ساتھ طے پانے والا معاہدہ اعلان کے صرف دو روز بعد ہی منسوخ کر دیا۔ امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے اس معاہدے کی سہولت کار بننے والی عسکری خاتون ذمے دار کو سبک دوش کر کے یہ معاملہ خود سنبھال لیا ہے۔ مذکورہ معاہدے میں یہ بات شامل تھی کہ ملزم کو اعتراف جرم کے بدلے سزائے موت نہیں دی جائے گی۔
لائیڈ آسٹن نے گوانتانامو میں فوجی عدالت کی نگرانی کرنے والی سوزان اسکالیئر کو بھیجے گئے ایک میمورنڈم میں کہا کہ "اس ملزم کے ساتھ مقدمے سے قبل معاہدے کرنے کے فیصلے کی اہمیت کے پیش نظر میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اس طرح کے فیصلے کی ذمے داری مجھ پر ہونا چاہیے ... میں ان تین معاہدوں سے دست بردار ہونے کا اعلان کرتا ہوں جن پر آپ نے 31 جولائی 2024 کو اس مقدمے میں دستخط کیے تھے"۔
اس مقدمے کے تین ملزمان خالد شيخ محمد، وليد بن عطاش اور مصطفى الہوساوی ہیں۔
امریکی وزیر دفاع کے اعلان سے قبل اس معاہدے کی خبر نے گیارہ ستمبر کے حملوں میں مرنے والے تین ہزار افراد کے عزیز و اقارب میں غصے کی لہر دوڑا دی تھی کیوں کہ یہ معاہدہ تینوں ملزمان کو سزائے موت سے بچانے والا تھا۔
اسی طرح کئی ریپبلکن ارکان کانگریس نے بھی اقرار ناموں کے سمجھوتوں پر کڑی تنقید کی۔ ان شخصیات میں ایوان نمائندگان کے اسپیکر مائیک جونسن اور سینیٹ میں اقلیت کے رہنما میچ مکونیل شامل ہیں۔