دسمبر 1925 کی موسم سرما کی ٹھنڈی ہوا کے ساتھ سعودی عرب کے بانی شاہ عبد العزیز جدہ کی تاریخی گلیوں میں گھومنے کے لیے جدہ گیٹ سے داخل ہوئے تھے۔ سعودی عرب پر اپنا کنٹرول مضبوط کرکے وہ اس کی بحالی کے اقدامات کے دوران جدہ آئے۔
99 برس قبل جدہ شہر میں داخلے کو تیسری سعودی مملکت کے قیام کی اہم ترین شروعاتوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے کیونکہ شاہ عبدالعزیز نے ریاض میں داخل ہونے کے 23 سال بعد اپنا نام نجد کے سلطان سے بدل کر حجاز اور نجد کا سلطان کردیا تھا۔
ریکارڈ شدہ تاریخ کے مطابق اگلا سال 2025 ہوگا خاص طور پر چار دسمبر کو تاریخی جدہ میں داخلے کی سو سال مکمل ہوجائیں گے۔ رواں سال ایک مشہور معاہدے کے بعد جدہ میں بانی کے داخلے کا 99 واں سال سمجھا جاتا ہے۔ اس داخلے کی بنیاد پر پر ہی ساحلی شہر جدہ نوجوان بادشاہ کے حوالے کر دیا گیا۔
بانی بادشاہ نے تاریخی جدہ کے دل کو اپنے صدر دفتر کے طور پر منتخب کیا۔ خاص طور پر مشہور نصیف محل میں وہ شاہ عبدالعزیز 10 سال تک مہمانوں کا استقبال کرتے رہے ۔ جدہ کے محلات میں گھرے فن تعمیر کے شاہکار اس محل سے وہ ملک کو چلاتے رہے۔
تاریخی جدہ ان آٹھ علاقوں میں سے ایک ہے جسے سعودی عرب نے عالمی انسانی ثقافتی ورثے کے حصے کے طور پر رجسٹر کرایا ہے۔ اسے فن تعمیر کا ایک اہم شاہکار سمجھا جاتا ہے۔
تاریخی جدہ
تاریخی جدہ ایک انسانی تہذیب کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ تہذیب اپنی عمارتوں، بازاروں اور مساجد کے اعتبار سے ممتاز ہے۔ تاریخی جدہ کی مشہور ورثہ عمارتوں میں موجود ہے جو قبل از اسلام کے زمانے سے تعلق رکھتی ہے۔ اس ساحلی شہر کے حوالے سے 26 ہجری میں اہم موڑ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں آیا۔ اس وقت اسے مکہ کے لیے ایک بندرگاہ کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا تاکہ یہ شہر پھلے پھولے اور سعودی دور تک ترقی کرنے لگے۔
تاریخی جدہ اپنی مشہور رہائش گاہوں اور محلوں کی تعمیر کے ساتھ مربوط سماجی زندگی کی کہانی کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس کی زینت اس کی گلیوں اور گھروں کی چھتوں میں ہے۔ اسی طرح پلاسٹر کی سجاوٹ، نقش و نگار، لکڑی اور ساحلی شہر میں موجود مختلف تفصیلات بھی اس کی خوبصورتی میں اضافہ کر رہی ہیں۔
یہ ساحلی شہر ماضی کی پیاس کی کہانی بھی بیان کرتا ہے جس میں پانی پلانے والے سقے اور ان کی قدیم گاڑیاں ساحلی شہر کے امیر لوگوں تک پانی پہنچاتی تھیں۔
نصیف محل
نصیف محل وہ ہے جسے بانی بادشاہ نے حجاز میں حکومت کے انتظام کے لیے ہیڈ کوارٹرز کے طور پر استعمال کیا تاکہ اس علاقے پر اپنے کنٹرول اور اثر و رسوخ کو بڑھایا جا سکے۔ یہ محل لگ بھگ 159 سال قبل تعمیر کیا گیا۔ اس محل میں کی تعمیر میں حجازی طرز کی شہری تعمیراتی تکنیکوں کو استعمال کیا گیا۔
یہاں ایک یادگار نیم کا درخت بھی ہے جو شاہ عبد العزیز کے داخل ہونے سے پانچ سال قبل محل کے دروازے کے سامنے لگایا گیا تھا۔ یہ دیو ہیکل درخت اب بھی ایک بڑے تنے کے ساتھ موجود ہے۔ یہ درخت اپنے سامنے کئی نسلوں کے گزرنے کا گواہ ہے اور اپنے سائے تلے میں پیش آنے والی ایک صدی کی کہانیاں سنا رہا ہے۔