اسرائیل میں جنگی حالات میں بچ جانے والی ’سپر ہیرو‘ کوکو کے لیے بڑی امیدیں
سردی اور خشک سالی کا مقابلہ کرنے والی کوکو کی ایک نئی قسم کی دریافت
کاشتکاری پراسرار طریقوں سے ترقی کر سکتی ہے۔ اسرائیلی محققین کو یہ اس وقت معلوم ہوا جب غزہ جنگ نے کوکو پودوں کی ایک زیادہ لچکدار قسم پر ان کا کام تباہ کر دیا جو ان پھلیوں کی عالمی قلت کو دور کرنے میں مدد کر سکتا تھا۔
اسرائیل کے زرعی تحقیقی مرکز وولکانی انسٹی ٹیوٹ نے 140 پنیریاں جنوبی اسرائیل کے ایک مرکز میں بھیجیں تاکہ یہ مطالعہ کیا جا سکے کہ منطقہ حارہ کے اس پودے کو خشک حالت میں کیسے اگایا جا سکتا ہے۔ لیکن اس کے چند ہی دن بعد یہ علاقہ فلسطینی گروپ حماس کے حملے کی زد میں آ گیا۔
غزہ جنگ نے جنوبی اسرائیل کو مفلوج کر دیا اور بجلی یا آبپاشی کے بغیر یہ ادارہ مہینوں تک بند رہا۔
اس جگہ کے ایک محقق ٹلی ایلانی نے کہا، "جب ہم جنوری میں واپس آئے تو ہم نے اپنے اردگرد کی ہر شے کو، تمام تجربات کو مردہ پایا۔"
کوکو کی 18 پنیریوں کے علاوہ سب کچھ
اگرچہ ٹیم نے کوکو کی خاص طور پر خشک سالی کے خلاف مزاحمت کرنے والی منتخب قسم کی جانچ کرنے کی منصوبہ بندی نہیں کی تھی لیکن اس وقت یہی ان کے سامنے تھا۔
وولکانی انسٹی ٹیوٹ کی ایک سینئر پرنسپل سائنسدان ایلن گرابر نے کہا، "ایک ایسی قسم جو نئی تازہ پنیریوں کے طور پر ڈیڑھ سے تین ماہ کی خشک سالی اور شدید سردی برداشت کرنے کے قابل ہو، اس کا مل جانا نہایت غیر معمولی نتیجہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم ایسی قسم تیار کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں جو کوکو کے پیداواری علاقوں کو وسعت دے سکے۔"
خراب موسم اور بیماری نے کوکو کی پیداوار کو نقصان پہنچایا ہے اور عالمی سطح پر اس کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔
گریبر اب بچ جانے والے پودوں جنہیں وہ "سپر ہیرو" کہتی ہیں، کی کلوننگ کرنے اور ان کی دیگر خصوصیات کی آزمائش کا ارادہ رکھتی ہیں مثلاً
کیڑوں کے خلاف مزاحمت اور ان کی لچک کے ذمہ دار خلیات کی شناخت
وولکانی انسٹی ٹیوٹ نے ماضی میں پودوں کی لچکدار قسم تیار کی ہے جس میں خشک سالی کے خلاف مزاحمت کرنے والی گندم جو پہلے پک جاتی ہے اور زیادہ غذائیت کی حامل ہوتی ہے نیز سردی سے بچنے والی نیاز بو جو سال بھر پیداوار دیتی ہے۔