سعودی عرب میں ایم پاکس کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا: ہیلتھ اتھارٹی
عوام کو ایم پاکس سے متأثرہ ممالک کے سفر سے گریز کرنے کی ہدایت
سعودی پبلک ہیلتھ اتھارٹی نے ہفتے کے روز تصدیق کی کہ عالمی سطح پر وباء پھیلنے کے باوجود سعودی عرب میں ایم پاکس کلیڈ ون بی کے کوئی کیسز سامنے نہیں آئے ہیں۔
اتھارٹی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مملکت وائرس کے پھیلاؤ کی نگرانی اور اس پر قابو پانے کے لیے ضروری اقدامات پر عمل درآمد کر رہی ہے اور شہریوں اور رہائشیوں دونوں کی حفاظت اور بہبود کو یقینی بنا کر ہر قسم کے صحت کے خطرات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے۔
عوام پر زور دیا گیا ہے کہ وہ سرکاری ذرائع سے ملنے والی معلومات پر انحصار کریں اور افواہوں یا غیر معتبر اطلاعات سے گمراہ نہ ہوں۔
عوام کو ان ممالک کے سفر سے گریز کرنے کا بھی مشورہ دیا گیا جہاں ایم پی اوکس دریافت ہوا ہے۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے پہلے اعلان کیا تھا کہ افریقہ کے کچھ حصوں میں جو ایم پاکس خاص طور پر زیادہ مہلک اور قابلِ انتقال کلیڈ ون بی سامنے آیا تھا، وہ اب بین الاقوامی سطح پر صحتِ عامہ کا ایک ہنگامی مسئلہ ہے۔
افریقہ میں سال کے آغاز سے اب تک کل 18,737 مشتبہ یا تصدیق شدہ کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ سب سے زیادہ متأثرہ ملک کانگو ہے جہاں ستمبر 2023 میں کلیڈ ون بی کے نئے سلسلے کا پہلی بار پتہ چلا اور ایک ہفتے میں 1,005 کیسز (222 تصدیق شدہ، 783 مشتبہ) کی اطلاع ملی اور 24 اموات ہوئیں۔
افریقہ سے باہر ایم پاکس کے پہلے کیس اس ہفتے سویڈن اور پاکستان میں ریکارڈ کیے گئے۔