'خلا پر کرنے کاامریکی منصوبہ':حماس نے اسرائیلی خواہشات کے تابع قرار دیکر مستردکر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

فرانس اور برطانیہ کی طرف سے غزہ میں جنگ بندی کوششوں کے بارے میں ظاہر کی گئی نا امیدی درست ثابت ہوئی ہے۔ حماس نے اتوار کے روز امریکہ کی خلا پر کرنے اور اسرائیل و حماس کے درمیان پل بننے کے نام پر کوششوں کو مسترد کر دیا ہے۔

اس پل بننے کی کوشش کے لیے امریکہ نے اپنے ہی صدر جوبائیڈن کے پیش کر دہ جنگ بندی فارمولے سے عملاً اسرائیلی انکار کے بعد اسرائیلی موقف قبول کر کے حماس کو بھی اس پر آمادہ کرنے کی کوششیں شروع کی تھیں کہ اسرائیلی تجاویز کو قبول کر لے تاکہ پیدا ہو جانے والا درمیانی خلا پر ہوجائے اور معاہدہ ممکن بنا لیا جائے۔ لیکن اتوار کے روز حماس نے اسے نیتین یاہو کی خواہشات اور عزائم اور کو آگے بڑھانے کی چیز سمجھتے ہوئے مسترد کیا ہے۔

حماس نے کہا ہے ' یہ تجویز اسرائیل کے نیتن یاہو کے موقف اور منصوبے کے بہت ہی زیادہ قریب ہے۔ '

نیتن یاہو نے پوزیشن حالیہ دنوں میں اختیار کی تھی ، حالانکہ گزشتہ ماہ میں مذاکرات کے پچھلے مرحلے میں جوبائیڈن فارمولے کے تحت کافی چیزوں پر فریقین نے اتفاق کر لیا تھا۔ لیکن نیتن یاہو نے پھر نئی تجاویز پیش کر کے مذاکرات کو مشکل سے دوچار کر دیا۔

حماس کو یہ تجاویز ثالث ملکوں کی طرف سے موصول ہو گئی تھیں۔ ان ثالث ملکوں میں قطر ، مصر اور امریکہ کو شامل قرار دیا جاتا ہے۔ مگر حماس نے اس ' خلائی پل کی کوشش' کو اس وقت مسترد کر دیا ہے جب امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کے اسرائیل کے دورے پر پہنچے ہوئے ابھی محض چند گھنٹے ہوئے تھے۔

وہ امریکہ سے اسی اعلان کے تحت اسرائیل پہنچے ہیں کہ فریقین میں جو خلا پیدا ہو گیا ہے امریکہ اسے پل بن کر ختم کرے گا تاکہ معاہدہ ہو جائے۔ 'خیال رہے دو روز جاری رہنے والے دوحہ مذاکرات میں فریقین میں نیتین یاہو کی نئی تجاویز کی وجہ سے خلا پیدا ہو گیا تھا۔

حماس کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے ' نئی تجویز بالکل نیتن یاہو کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ جو جنگ کے خاتمے اور اسرائیلی فوج کے غزہ سے انخلا سے انکار کر رہے ہیں۔ حتیٰ کہ اسرائیلی فوج کو اسرائیلی سرحد سے بھی نہیں ہٹانے کا کہہ چکے ہیں۔ اس طرح کی شرائط کے ساتھ معاہدہ نہیں ہو سکتا۔'

فلسطینی مزاحمتی تحریک نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے' ہم نیتن یاہو کو پوری طرح مذاکرات اور ثالثوں کی مذاکراتی کوششوں کو ناکام بنانے کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ وہ معاہدے کی تاخیر اور اسرائیلی قیدیوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کے بھی ذمہ دار ہیں۔ یہ اسرائیلی قیدی غزہ میں ایکسپوز ہو جانے کی وجہ سے اسی طرح خطرے میں ہیں، جس طرح فلسطینی عوام خطرے میں ہیں۔ کہ انہیں بھی اب اسرائیلی بمباری اور حملوں میں اس لیے مرنا ہے کہ اسرائیل کی جاری ہمہ جہت ، منطم جارحیت اور بڑھئ ہوئی بمباری و تباہی میں بہت تیزی ہے۔'

'اس لیے ہم ثالث ملکوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے قبضے کو اس اتفاق رائے پر عمل کے لیے مجبور کریں جس ماہ جولائی میں اتفاق ہو گیا تھا ، حماس جولائی میں جو نکات طے ہوگئے تھے ان پر آج بھی قائم ہے اور پوری طرح عمل کے لیے تیار ہے۔ '

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں