غزہ میں اسرائیلی فائرنگ سے فلسطینی صحافی جاں بحق، دو زخمی
صحافتی اداروں کی مذمت، اسرائیلی فوج کا فوری تبصرے سے انکار
غزہ میں وزارتِ صحت اور ایک فلسطینی نیوز سائٹ نے پیر کے روز بتایا کہ گذشتہ روز علاقے کے جنوب میں اسرائیلی فائرنگ سے ایک صحافی ہلاک ہو گیا تھا۔
وزارت نے کہا، پیر کے روز جنوبی شہر خان یونس میں "ابراہیم محارب کی میت الناصر ہسپتال لے جائی گئی"۔
ایک ویب سائٹ فلسطینی ڈیلی نیوز جس کے لیے محارب کام کرتے تھے، نے "اسرائیلی قابض فوج کی ان پر اور صحافیوں کے ایک گروپ پر گولہ باری کے بعد" ان کی موت کا اعلان کیا۔
سائٹ نے مزید کہا کہ محارب کی لاش پیر کی صبح قطر کے تعمیر کردہ ایک بڑے اپارٹمنٹ کمپلیکس حمد سٹی سے ملی جو اب کھنڈرات میں بدل چکا ہے۔
اے ایف پی کے ایک صحافی نے اطلاع دی کہ دو دیگر صحافی زخمی ہوئے جو اس وقت محارب کے ساتھ تھے اور انہیں خان یونس کے ناصر ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
آن لائن ویڈیوز میں جن کی اے ایف پی علیحدہ طور پر تصدیق نہیں کرسکا ہے، ایک اسرائیلی بکتر بند گاڑی کو حمد محلے کی طرف بڑھتے ہوئے دکھایا گیا جب گولیاں چل رہی تھیں۔
"پریس" جیکٹ پہنے کم از کم ایک شخص کو گولیوں سے بھاگتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، پھر ایک آواز آتی ہے کہ "ابراہیم زخمی ہے، وہ کہاں ہے؟"
اے ایف پی ٹی وی کی فوٹیج میں دکھایا گیا کہ پیر کو تقریباً 30 افراد ہسپتال میں محارب کی لاش کے گرد جمع تھے جو پلاسٹک کی ایک سفید ترپال کے نیچے زمین پر رکھی تھی جس پر "پریس" کے نشان والی بلٹ پروف جیکٹ پھولوں کی چادر کی طرح رکھ ہوئی تھی۔
جب اے ایف پی نے رابطہ کیا تو اسرائیلی فوج نے محارب کی ہلاکت کے جغرافیائی مقام کی معلومات اور ان کے شناختی کارڈ کے بغیر اس مخصوص معاملے پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
فوج کے ایک ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا، "(اسرائیلی فوج) نے کبھی دانستہ صحافیوں کو نشانہ نہیں بنایا اور نہ بنائے گی۔"
فلسطینی صحافیوں کی مجلس نے محارب کے "قتل" کی مذمت کی اور اسرائیلی فوج پر غزہ میں "صحافیوں کو قتل کرنے کی منظم مہم" چلانے کا الزام لگایا۔
ہسپتال میں موجود غزہ کے صحافی ابراہیم قنان نے اسرائیل پر الزام لگایا کہ وہ "غزہ کی پٹی میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے بیرونی دنیا تک پہنچنے کے تمام نشانات مٹانے کی کوشش کر کے سچ کو مار رہا ہے"۔
اسرائیلی فوج نے غزہ میں متعدد صحافیوں کو ہلاک کیا ہے جن پر وہ حماس یا اسلامی جہاد کی مسلح شاخوں سے تعلق رکھنے کا الزام لگاتی ہے۔
کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) نے پیر کو اطلاع دی کہ غزہ جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک "کم از کم 113 صحافی اور میڈیا کارکنان" ہلاک ہو چکے ہیں۔
یہ "صحافیوں کے لیے مہلک ترین دور ہے جب سے سی پی جے نے 1992 میں ڈیٹا جمع کرنا شروع کیا ہے۔"