غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جنگ کو روکنے کے لیے ثالثوں کے درمیان بات چیت جاری ہے حماس کے زیر حراست یرغمالیوں کا معاملہ ابھی تک پیچیدہ بنا ہوا ہے۔
سرنگ میں 6 لاشیں
تازہ ترین پیش رفت میں اسرائیلی فوج نے منگل کی صبح اعلان کیا کہ غزہ کی پٹی سے اندرونی انٹیلی جنس کے ساتھ مل کر کیے گئے آپریشن کے دوران 6 یرغمالیوں کی لاشیں مل گئی ہیں۔ ایکس پر اپنی پوسٹ میں وضاحت کی گئی کہ اسرائیلی فوج گزشتہ رات شن بیٹ جنرل سکیورٹی سروس کے ساتھ مشترکہ آپریشن کے دوران وسطی غزہ کی پٹی کے علاقے خان یونس میں ایک سرنگ کے اندر سے چھ لاشیں برآمد کی ہیں۔
صہیونی فوج نے آپریشن کی کامیابی کا دعویٰ کیا اور کہا کہ اس کی وجہ شن بیٹ، انٹیلی جنس یونٹس اور انٹیلی جنس ڈیپارٹمنٹ میں یرغمالیوں کے ڈائریکٹوریٹ کی طرف سے درست معلومات ہیں۔ اسی وجہ سے خان یونس کے علاقے میں لاشیں ملی ہیں۔
اسرائیلی حکومت کے خلاف غصہ
یرغمالیوں کے اہل خانہ کے فورم نے اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ منڈور جو پہلے زندہ تھے کے قتل کا یہ اعلان نیتن یاہو کی سربراہی میں اسرائیلی حکومت کے منہ پر طمانچے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا منڈور کو تمام قیدیوں کے ساتھ اسی وقت رہا کیا جانا چاہیے تھا جب وہ زندہ تھے۔ حماس کے ساتھ جنگ بندی تک پہنچنے کے لیے میز پر موجود معاہدے کو قبول کیا جانا چاہیے تھا۔
اسرائیلی اپوزیشن کے رہنما یائر لاپڈ نے زور دیا ہے اسرائیل مزید یرغمالی کھو رہا ہے۔ اسرائیلی حکومت کو فوری طور پر کسی معاہدے پر پہنچنا چاہیے۔ واضح رہے ایک سابق یرغمالی نے ایجنسی فرانس پریس کو بتایا ہے کہ سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے دوران چھ قیدیوں کو حراست میں لینے کے بعد ایک سرنگ میں ایک ساتھ رکھا گیا ہے۔
منڈور کو اس کی بیوی، بیٹی اور پوتے کے ساتھ حراست میں لیا گیا تھا۔ اس کا بیٹا حماس کی طرف سے سات اکتوبر کو جنوبی اسرائیل پر شروع کیے گئے غیر معمولی حملے کے دوران مارا گیا تھا۔ خاندان کے دیگر افراد کو نومبر میں ایک ہفتہ کی جنگ بندی کے دوران اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کے ساتھ تبادلے کے معاہدے کے تحت رہا کیا گیا تھا۔